کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 227
مقروض سے قرض کے علاوہ جو کچھ بھی لیتا ہے وہ سود ہے۔[1]اور جب یہ سود ہے، تو اس کا لینا دینا حرام ہو گا۔ اور سود کا نام فیس رکھنے سے وہ حلال تو نہیں ہو سکتا۔ خنزیر کو بکری کہنے سے،وہ حلال تو نہیں ہو سکتا۔ ب: بنک تجارتی ادارے کو کارڈ والے کی خرید کردہ اشیاء کے بلوں کی مکمل رقم ادا نہیں کرتا، بلکہ مخصوص شرح سے کٹوتی کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر وہ کارڈ والے سے سو روپے وصول کرتا ہے، تو تجارتی ادارے کو ۹۸ روپے دیتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے، کہ بنک ہر سو روپوں میں سے دو روپے کس بنا پر وصول کرتا ہے؟ سبب واضح ہے، کہ بنک تجارتی ادارے کو آج ۹۸ روپے دے کر کارڈ والے سے ایک ماہ بعد سو روپے وصول کرتا ہے۔دو روپے درحقیقت اٹھانوے روپے ایک ماہ کی مدت کے لیے دینے کا معاوضہ ہے اور رقم دے کر، دی ہوئی مدت کے بدلہ میں حاصل کردہ اضافی رقم ہی کا نام سود ہے۔ بعض تجارتی ادارے کارڈ والے سے خریدے ہوئے سامان کی حقیقی قیمت سے کچھ زیادہ رقم کے بل پر دستخط کرواتے ہیں۔ مثال کے طور پر اٹھانوے روپے کا سامان دے کر سو روپے کے بل پر دستخط کرواتے ہیں۔ اس طرح تجارتی ادارہ تو اپنا پورا حق وصول کرتا ہے، البتہ کارڈ والا اٹھانوے روپے کا سامان لے کر بنک کو سو روپے دینے کا پابند ہوتا ہے۔ اس کے اس اضافہ کو برداشت کرنے کا سبب یہ ہے، کہ بنک اس کی طرف سے یہ رقم تجارتی ادارہ کو فوراً ادا کرتا ہے اور وہ بنک کو کچھ مدت کے بعد ادا کرتا ہے۔ اور مدت کے مقابلہ میں اسی اضافہ کا نام سود ہے۔ ج: چارج کارڈ کے ذریعہ اُدھار خریداری کی رقم کی بنک کو مقررہ مدت میں واپسی ناممکن تو نہیں، البتہ مشکل ضرور ہے۔ ابتدا میں مقررہ مدت کے اندر ادائیگی [1] اس سلسلے میں تفصیل اس کتاب کے صفحات ۱۸۳۔۱۸۷ میں ملاحظہ فرمائیے۔