کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 226
’’ مَا أَحَدٌ أَکْثَرَ مِنَ الرِّبَا إِلاَّ کَانَ عَاقِبَۃُ أَمْرِہِ إِلیٰ قِلَّۃٍ۔‘‘ [1] ’’کوئی شخص بھی سود سے زیادہ[مال جمع]نہیں کرتا، بلکہ اس کا انجام تنگ دستی ہوتا ہے۔‘‘ کیا ان آیات و احادیث سے آگاہی کے بعد سچے ایمان والا شخص کسی بھی سودی معاملہ کے قریب پھٹک سکتا ہے؟ ایک سوال اور اس کا جواب: اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے، کہ اگر کارڈ والا مقررہ مدت کے اندر ہی بنک کو واجب الذمہ رقم ادا کر دے اور بنک ادا کردہ رقم سے زائد کچھ نہ لے، تو پھر اس کارڈ کے استعمال کا شرعی حکم کیا ہو گا؟ درج ذیل تین باتوں کو پیش نظر رکھنے سے سوال کا صحیح جواب سمجھنے میں توفیقِ الٰہی سے آسانی کی توقع ہے: ا: بعض بنک ایسے کارڈ کے دینے، اس کی تجدید اور گم شدگی کی صورت میں نئے کارڈ کے جاری کرنے پر فیس وصول کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے، کہ کارڈ لینے والا ان باتوں کا معاوضہ کیوں ادا کرتا ہے؟ جواب واضح ہے، تاکہ وہ اپنی اُدھار خریداری کے لیے بنک سے قرض حاصل کر سکے۔ اس طرح بنک، کارڈ والے سے اصل قرض کے علاوہ فیس کے نام سے اضافہ وصول کرتا ہے۔ اور شریعت اسلامی کا واضح حکم ہے، کہ قرض کی بنا پر، قرض دینے والا، [1] صحیح سنن ابن ماجہ، کتاب التجارات، باب التغلیظ في الربا، رقم الحدیث ۱۸۴۸۔ ۲۲۷۹، ۲؍۲۸۔ شیخ البانی نے اس کو [ صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍۲۸؛ نیز ملاحظہ ہو: صحیح الترغیب والترھیب ۲؍۳۷۸)۔ سود کی حرمت اور سنگینی کے متعلق مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: راقم السطور کی کتاب : التدبیر الواقیۃ من الربا في الإسلام ص ۳۳۔۵۹۔