کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 225
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ دِرْھَمُ رِبَائً یَا کُلُہُ الرَّجُلُ، وَھُوَ یَعْلَمُ أَشَدُّ مِنْ سِتَّۃٍ وَ ثَلَاثِیْنَ زِنْیَۃً۔‘‘ [1] ’’آدمی کا ایک درہم سود جانتے بوجھتے کھانا چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے زیادہ سنگین ہے۔‘‘ د:سب سے ہلکے سود کا ماں کے ساتھ نکاح کرنے کی مانند ہونا: امام ابن ماجہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ اَلرِّبَا سَبْعُوْنَ حُوْبًا، أَیْسَرُھَا أَنْ یَنْکِحَ الرَّجُلُ أُمَّہُ۔‘‘ [2] ’’سود کی ستر اقسام ہیں، ان میں سے سب سے ہلکی قسم یہ ہے، کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے۔‘‘ ہ:سود کا انجام تنگ دستی: امام ابن ماجہ نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] المسند، رقم الحدیث ۲۱۹۵۷، ۳۶؍۲۸۸۔ حافظ ہیثمی اور حافظ منذری نے تحریر کیا ہے، کہ اس کے روایت کرنے والے صحیح کے راویان ہیں۔ شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔ ملاحظہ ہو: مجمع الزوائد ۴؍۱۱۷ ؛ والترغیب والترھیب ۳؍۷ ؛ و صحیح الترغیب والترھیب ۲؍۳۷۶)؛ البتہ حافظ ابن الجوزی نے اس حدیث کو موضوع احادیث میں شمار کیا ہے، لیکن حافظ ابن حجر نے ان کی تردید کی ہے۔(ملاحظہ ہو: القول المسدد فی الذبّ عن مسند الإمام أحمد ص ۵۱۔۵۳۔ [2] صحیح سنن ابن ماجہ، کتاب التجارت، باب التغلیظ في الربا، رقم الحدیث ۱۸۴۴۔ ۲۲۷۴، ۲؍۲۷۔ شیخ البانی نے اس کو [صحیح] قرار دیا ہے۔(ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍۲۷)۔