کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 217
تبصرہ: قرض دینے والے نے قرض دے کر جو کچھ بھی کیا ہے، عام حالات میں وہ مستحب کے دائرہ سے آگے نہیں بڑھتا۔ اور زکوٰۃ کی ہر سال ادائیگی اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ فریضہ ہے۔ اپنی مرضی سے کیے ہوئے مستحب کام کی بنا پر قرض دینے والا کا فرض کام کو معطل کرنا درست معلوم نہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ أعلم۔ ب: پہلی قسم کے قرض کے متعلق دوسری رائے یہ ہے، کہ قرض دینے والا اس کی ہر سال زکوٰۃ ادا کرے۔ یہ رائے حضراتِ صحابہ میں سے عثمان، ابن عمر، جابر رضی اللہ عنہم، امام شافعی اور بعض دیگر ائمہ کی ہے۔ دلیل: قرض کی اس قسم میں مقروض کے اقرار اور ادائیگی کی استطاعت کی وجہ سے قرض دینے والے کی ملکیت متاثر نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جب چاہے، اپنا قرض واپس لے کر اس میں اپنی مرضی سے تصرف کرسکتا ہے۔ [1] تبصرہ: اس رائے کی دلیل زیادہ وزنی اور معقول نظر آتی ہے۔ واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ اس سلسلے میں امام بیہقی نے سائب بن یزید کے حوالے سے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے فرمایا: ’’ زَکِّہِ إِذَا کَانَ عِنْدَ الْمَلَاء۔ ‘‘ ’’ اس کی[یعنی قرض کی]زکوٰۃ ادا کرو، جب وہ مال دار شخص کے ذمہ ہو۔ ‘‘ [2] [1] ملاحظہ ہو: المغني ۴؍ ۲۷۰۔ [2] السنن الکبری للبیہقي، کتاب الزکاۃ، باب زکوٰۃ الدین إذا کان علی ملي ء موفی، رقم الروایۃ ۷۶۱۹، ۴؍ ۲۵۱۔