کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 209
۵: قرض کی چیز یا رقم پر مقروض کی ملکیت حقیقی نہیں، بلکہ وقتی اور ظاہری ہے، اسی لیے مقروض کے افلاس کی صورت میں قرض خواہ مقروض کے ہاں موجود اپنے مال کا اس سے زیادہ حق دار ہوتا ہے۔ [1] ۶: جمہور علماء کے نزدیک قرض خواہ اپنے دیئے ہوئے قرض کی زکوٰۃ دینے کا پابند ہے۔ مقروض کو بھی قرض کے مال کی زکوٰۃ ادا کرنے کا پابند کرنے کی صورت میں ایک ہی مال پر دو دفعہ زکوٰۃ واجب ہوگی، جو کہ شرعاً درست نہیں۔ [2] اموال ظاہرہ والے مقروض پر قرض کی زکوٰۃ ہونے کے دلائل: ۱: مقروض آزاد، مسلمان اور صاحب نصاب ہونے کی بنا پر دیگر مسلمانوں کی طرح ہے۔ جس طرح ان پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے، اسی طرح اس پر فرض ہوگی۔ [3] ۲: اموالِ ظاہرہ پر زکوٰۃ کی فرضیت نسبتاً زیادہ مؤکد ہے۔ فقراء اور مساکین کی نگاہ ایسے مالوں پر قدرے زیادہ ہوتی ہے اور انھیں ان کی زکوٰۃ میں سے کچھ حاصل ہونے کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلامی حکومت کے عمال انہی کی زکوٰۃ کی وصولی کے لیے جاتے ہیں۔ اموالِ باطنہ کی زکوٰۃ دینے پر نہ وہ کسی کو مجبور کرتے ہیں اور نہ ہی اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ترجیح: دونوں آراء میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے سے پیشتر دونوں طرف کے دلائل پر غور و فکر کرتے ہیں۔ [1] ملاحظہ ہو: اس کتاب کا صفحہ۱۲۵۔ [2] ملاحظہ ہو: فقہ الزکاۃ ۱؍۱۵۶۔ [3] ملاحظہ ہو: المغني ۴؍ ۲۶۳۔