کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 206
اور اگر اس کے پاس کل موجود ایک لاکھ ہے، اور وہ ایک لاکھ ہی کا مقروض ہے، تو اس صورت میں اس پر سرے سے زکوٰۃ فرض ہی نہ ہوگی، کیونکہ اس کی حقیقی حیثیت صفر ہے۔ [1] یہ رائے حضرات ائمہ عطاء، سلیمان بن یسار، میمون بن مہران، حسن، نخعی، لیث، مالک، ثوری، اوزاعی، اسحق، ابوثور اور اصحاب رائے کی ہے۔ حضرات ائمہ ربیعہ، حماد بن ابی سلیمان اور شافعی کے جدید قول کے مطابق قرض کی زکوٰۃ مقروض کے ذمہ ہوگی۔ [2] اموالِ ظاہرہ کے متعلق امام احمد سے دو روایات منقول ہیں۔ ایک روایت کے مطابق ان کا حکم اموال باطنہ جیسا ہوگا، کہ ان کی زکوٰۃ مقروض کے ذمہ نہ ہوگی۔ اور یہی رائے حضراتِ ائمہ عطاء، حسن، سلیمان، میمون بن مہران، نخعی، ثوری، لیث اور اسحاق کی ہے۔ دوسری رائے حضرات ائمہ مالک، اوزاعی اور شافعی کی ہے۔ امام احمد سے بھی ایک روایت اسی کی تایید میں نقل کی گئی ہے۔ [3] مذکورہ بالا گفتگو کا خلاصہ درج ذیل ہے: ۱: جمہور علماء کے نزدیک اموالِ باطنہ والے مقروض پر قرض کی زکوٰۃ نہیں۔ ۲: بعض علماء کے نزدیک اموالِ ظاہرہ والے مقروض پر بھی قرض کی زکوٰۃ نہیں۔ ۳: بعض علماء کے نزدیک اموالِ ظاہرہ والے مقروض پر قرض کی زکوٰۃ ہے۔ مقروض پر قرض کی زکوٰۃ نہ ہونے کے دلائل: ۱: حضراتِ ائمہ مالک، عبدالرزاق، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے سائب بن یزید سے [1] کل موجود رقم … ایک لاکھ روپے۔ …… قرض کی رقم … ایک لاکھ روپے۔ اس صورت میں مقروض کے پاس حقیقی طور پر کچھ بھی نہیں، جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ کسی اور کا بطورِ قرض ہے۔ لہٰذا اس پر سرے سے زکوٰۃ نہ ہوگی۔ [2] ملاحظہ ہو: المغني ۴؍ ۲۹۳۔ [3] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۴؍ ۲۶۵۔