کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 205
مبحث نہم: قرض کی زکوٰۃ قرض کے متعلقہ مسائل میں سے ایک یہ ہے، کہ بطورِ قرض دی ہوئی رقم یا چیز کی زکوٰۃ کون ادا کرے گا؟ توفیق الٰہی سے اس بارے میں گفتگو درج ذیل دو عنوانوں کے ضمن میں کی جائے گی۔ ۱: کیا مقروض قرض کی زکوٰۃ دے گا؟ ۲: کیا قرض دینے والا قرض کی زکوٰۃ دے گا؟ (۱) کیا مقروض لیے ہوئے قرض کی زکوٰۃ دے گا؟ علمائے اُمت نے اموال کو دو قسموں میں تقسیم کیا ہے:پہلی قسم ’’اموال باطنہ‘‘ جیسے نقدی، سونا، چاندی اور سامان تجارت ہیں۔ دوسری قسم ’’اموال ظاہرہ‘‘ جیسے چوپائے، غلہ، پھل وغیرہ ہیں۔ جمہور علماء کے نزدیک اموال باطنہ والے مقروض پر قرض کی زکوۃ نہیں۔ قرض کی چیز یا رقم کو اس کی ذاتی قابل زکوٰۃ رقم میں شامل تصور نہ کیا جائے گا۔ مثال کے طور پر اگر اس کے پاس کل ۲ لاکھ روپے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ ذاتی اور ایک لاکھ روپے قرض کے ہیں، تو وہ صرف ایک لاکھ روپے کی زکوۃ ادا کرے گا، دو لاکھ کی نہیں۔ [1] [1] ذاتی موجود رقم … ایک لاکھ روپے …… قرض کی رقم ایک لاکھ روپے۔ اس صورت میں کل موجود رقم ۲ لاکھ روپے ہوگی۔ لیکن زکوۃ ایک لاکھ پر ہوگی، کیونکہ اس کی حقیقی حیثیت ایک لاکھ کی ہے، دو لاکھ کی نہیں۔