کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 196
مفید اور مناسب بات سے منع نہیں کرتے۔ وہ تو ضرر رساں چیز سے روکتے ہیں۔ ‘‘ [1] دوسری صورت میں مقروض دو فائدے حاصل کر رہا ہے:ایک قرض کے پانے کا، دوسرا فائدہ یہ ہے، کہ وہ دوسری جگہ ادائیگی سے رقم یا چیز کے اصل جگہ پہنچانے کے خرچے اور وہاں پہنچاتے ہوئے راستے کے خطرے سے نجات حاصل کررہا ہے۔ اور یہ صورت جائز ہوگی، کیونکہ قرض کا اصل مقصد مقروض کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے، اور اس صورت میں قرض خواہ بغیر کسی معاوضہ کے مقروض کو دہرا فائدہ پہنچارہا ہے۔ تیسری صورت حرام ہوگی، کیونکہ اس میں قرض خواہ اپنے دیئے ہوئے قرض کے عوض نفع حاصل کر رہا ہے، اور مقروض کا اس کو برداشت کرنا کسی اضافی فائدہ کی بنا پر نہیں، بلکہ صرف قرض لینے کی مجبوری کی وجہ سے ہے۔ اور قرض کے سبب ایسا نفع لینے کی شرط لگانا ناجائز اور حرام ہے۔ اور شاید فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے فرمان:فَأَیْنَ الْحَمْلُ؟… ’’کرایہ کہاں ہے؟ ‘‘ میں اسی بات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ واللہ تعالیٰ أعلم بالصواب۔ چوتھی صورت تو دونوں میں سے کوئی بھی گوارا نہ کرے گا، کیونکہ اس میں دونوں کا نقصان ہے۔ تنبیہات: ۱: اگر قرض کی دوسری جگہ ادائیگی میں صرف قرض خواہ کا فائدہ ہو، لیکن یہ شرط پہلے سے طے شدہ نہ ہو، بلکہ مقروض اپنی مرضی سے بعد میں اس جگہ ادا کردے، تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔ امام عبدالرزاق نے زہری اور ابن سیرین رحمہما اللہ تعالیٰ سے نقل کیا ہے، کہ انہوں نے کہا: [1] مجموع الفتاویٰ ۲۹؍ ۵۳۰۔ ۵۳۱؛ نیز ملاحظہ ہو: إعلام الموقعین ۱؍ ۳۹۱۔