کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 194
کہ اس نے وہ رقم یا چیز وہیں صرف کرنی ہو۔ ۲: اس میں صرف مقروض کا فائدہ ہو، کہ واپسی کے وقت وہ رقم یا چیز اس کے پاس اسی دوسری جگہ ہو، البتہ قرض خواہ کو رقم یا چیز کو اپنی اصلی جگہ لانے کے لیے اضافی خرچہ اور راستے کا خطرہ برداشت کرنا پڑے۔ ۳: اس میں صرف قرض خواہ کا فائدہ ہو، کہ اس نے اسی مقام پر رقم یا چیز کو استعمال میں لانا ہو، البتہ مقروض کو وہاں رقم یا چیز پہنچانے میں اضافی خرچہ اور راستے کا خطرہ برداشت کرنا پڑے۔ ۴: دوسری جگہ ادائیگی کی شرط کی صورت میں قرض خواہ اور مقروض دونوں کا نقصان ہو۔ مقروض کو وہاں رقم پہنچانے کے لیے اضافی خرچہ اور راستے کا خطرہ برداشت کرنا پڑے اور قرض خواہ کو وہاں سے رقم واپس لانے کی خاطر اضافی خرچہ اور راستے کا خطرہ برداشت کرنا پڑے۔ [1] چاروں صورتوں کا حکم: پہلی صورت میں مقروض دو فائدے حاصل کرتا ہے:ایک قرض حاصل کرنے کا اور دوسرا قرض کی رقم یا چیز کو اپنی آسانی کی جگہ ادا کرنے کا۔ قرض خواہ صرف ایک فائدہ حاصل کرتا ہے اور وہ یہ ہے، کہ ادائیگی کے وقت وہ قرض کی رقم یا چیز کو اپنی مطلوبہ جگہ میں حاصل کرتا ہے۔ اس معاملہ کو درج ذیل شکل سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مقروض قرض خواہ ۱: قرض کےذریعہ سے رقم یاچیز کاحاصل کرنا X ۲: قرض کی رقم یاچیز اپنی آسانی کی جگہ ادا کرنا۔ قرض کی رقم یاچیز واپسی کےوقت اپنی مطلوبہ جگہ میں حاصل کرنا۔ [1] تفصیل کے لیے دیکھئے:’’ربا القروض وأدلۃ، تحریمہ‘‘ للأستاذ الدکتور رفیق مصري ص ۶۰۔ ۶۳۔