کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 174
اسْتِصْلَاحِ الْعُقَلَائِ وَ مُقْتَضَی رَأي الْحُکَمَائِ فَقَدْ رَدَّ الشَّرِیْعَۃَ، وَاتَّخَذَ کَلَامَہُ ھٰذَا إِلٰی رَدِّ الشَّرَائِعِ ذَرِیْعَۃً۔ وَلَوْ جَازَ ذٰلِکَ لَسَاغَ رَجْمُ مَنْ لَیْسَ مُحْصِنًا إِذَا زَنَا فِي زَمَنِنَا ھٰذَا لِمَا تَخَیَّلَہُ ھٰذَا الْقَائِلُ، وَلَجَازَ الْإِزْدِبَارُ عَلیٰ مَبَالِغِ الزَّکَوَاتِ عِنْدَ ظَھُوْرِ الْحَاجَاتِ۔‘‘ [1] بعض جاہلوں کا غفلت اور بے خبری کی بنا پر گمان یہ ہے، کہ ابتدائے اسلام میں[سزاؤں میں]تخفیف کا سبب یہ تھا، کہ لوگوں کا زمانہ خالص اسلام سے قریب تھا اور ان کو[غلط کاموں سے]روکنے کے لیے معمولی تنبیہ اور ہلکی مقدار میں تعزیر کافی تھی۔ اور اب جب کہ دل سخت ہو چکے ہیں،[خالص اسلام سے]زمانہ بہت دور ہو چکا ہے اور عام مخلوق ترغیب و ترہیب والی چیزوں سے اپنا رشتہ مضبوط کر چکی ہے، سابقہ سزاؤں پر اکتفا کرنے سے نظام نہیں چل سکتا۔ بعض بیوقوف اس بات کو معمولی سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں یہ بات تو اس شریعت کی مخالفت کا سبب بنے گی، جس کے ساتھ سیّد الانبیاء۔ علیہ و علیہم السلام۔ مبعوث کیے گئے۔[خلاصہ کلام یہ ہے]کہ جس نے یہ گمان کیا، کہ شریعت عقلاء کی اصلاحات اور حکماء کی دانش سے استفادہ کرتی ہے، اس نے شریعت کو مسترد کیا اور اس نے اپنی اس بات کو شریعتوں کو ردّ کرنے کا ذریعہ بنایا۔ اگر یہی رائے مان لی جائے، تو پھر تو ہمارے زمانے میں غیر شادی شدہ بدکار کو سنگسار کرنا درست ہوتا اور[فقراء و مساکین کی]ضروریات کے زیادہ ہونے کی صورت میں زکوٰۃ کی مقدار بڑھانا جائز ہوتا۔ [1] غیاث الأمم فی التیات الظلم ص ۱۶۴ باختصار۔