کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 166
تو ریاست کی ذمہ داری ہے، کہ اس کی طرف سے ادا کرے۔ ‘‘ [1] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی بعض مسلمان حکام اس ذمہ داری کو پورا کرنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ امام ابوعبید القاسم بن سلام نے روایت نقل کی ہے، کہ: عمر بن عبد العزیز نے عبدالحمید بن عبدالرحمن کو، جو کہ عراق میں تھے، لکھا کہ لوگوں کے عطیات دے دو۔ انہوں نے جواب میں لکھا:’’ بلاشبہ میں لوگوں کے عطیات ان کو دے چکا ہوں،[لیکن پھر بھی]بیت المال میں مال باقی ہے۔ ‘‘ انہوں نے ان کو لکھا: أَنِ انْظُرْ کُلَّ مَنْ ادَّانَ فِيْ غَیْرِ سَفَہٍ وَلَا سَرَفٍ، فَاقْضِ عَنْہُ۔ [2] ’’ تم دیکھو، کہ ہر وہ شخص جس نے بیوقوفی کے کاموں یا اسراف سے خرچ کرنے کے لیے قرض نہ لیا ہو، اس کی طرف سے قرض ادا کردو۔ ‘‘ بیت المال سے اعانت کے حصول کے لیے شرائط: اس گفتگو سے کوئی یہ نہ سمجھ لے، کہ وہ لوگوں سے قرضے لے کر اسراف و تبذیر سے لوگوں کے مالوں کو برباد کرتا رہے، پھر اس کے مرنے کے بعد بیت المال اس کے ذمہ قرضوں کو ادا کرنے کا پابند ہوگا۔ یہ تصور خام خیالی اور دین سے نافہمی کی پیداوار ہے۔ بیت المال پر میت کے قرضہ جات کی ادائیگی کی ذمہ داری کے لیے کچھ شرائط ہیں، جن میں سے تین درج ذیل ہیں: ۱۔ قرض لینے کا معقول اور جائز سبب: بیت المال صرف انہی قرضوں کی ادائیگی کا پابند ہوگا، جو کہ معقول اور جائز [1] أحکام الجنائز وبدعھا، ص ۱۴۔ [2] کتاب الأموال، باب تعجیل إخراج الفيء وقسمتہ بین أھلہ، رقم الروایۃ ۶۲۵، ص ۲۳۴۔