کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 146
’’ ضامن ادائیگی کرنے کا پابند ہے اور قرض تو ادا کیا جانا ہے۔ ‘‘ ادائیگی قرض کے لیے ضامن کا تعین مندرجہ ذیل تین صورتوں میں سے ہوسکتا ہے: ا: قرض لیتے وقت ب: قرض لینے کے بعد مقروض کی زندگی میں ج: مقروض کی وفات کے بعد ذیل میں تینوں صورتوں کے متعلق قدرے تفصیل پیش خدمت ہے: ا۔ قرض لیتے وقت: امام بخاری نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر فرمایا، کہ اس نے بنو اسرائیل کے ایک دوسرے شخص سے ایک ہزار دینار بطورِ قرض مانگے۔ اس شخص نے کہا:’’ ائْتِنِيْ بِالشُّھَدَائِ أُشْھِدُھُمْ۔ ‘‘ [میرے پاس ایسے گواہ لاؤ، جن کی گواہی قابل اعتماد ہو۔] اس[قرض طلب کرنے والے]نے جواب دیا:’’ کَفَی بِاللّٰہِ شَھِیْدًا۔ ‘‘ [گواہ تو اللہ تعالیٰ ہی کافی ہیں۔] اس نے کہا:’’ فَائْتِنِيْ بِکَفِیْلٍ۔ ‘‘ [تو میرے پاس کوئی ضامن لاؤ۔] اس نے جواب دیا:’’ کَفَی بِاللّٰہِ کَفِیْـلًا۔ ‘‘ [اللہ تعالیٰ بطورِ ضامن کافی ہیں۔] اس نے کہا:’’ صَدَقْتَ … الحدیث۔ ‘‘[1] [1] صحیح البخاري، کتاب الکفالۃ، جزء من رقم الحدیث ۲۲۹۱، ۴؍ ۴۶۹۔