کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 142
يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ [1] [اور تمہارے لیے اس کا نصف ہے، جو تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں، اگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو، پس اگر ان کی اولاد ہو، تو تمہارے لیے ان کے چھوڑے ہوئے میں سے چوتھا حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو وہ کرجائیں یا قرض(کے بعد)۔ اور ان کے لیے اس میں سے چوتھا حصہ ہے، جو تم چھوڑ جاؤ، اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو۔ پس اگر تمہاری کوئی اولاد ہو، تو ان کے لیے تمہارے چھوڑے ہوئے میں سے آٹھواں حصہ ہے، اس وصیت کے بعد جو تم کرجاؤ یا قرض[کے بعد]۔] علامہ قرطبی نے آیت شریفہ کی تفسیر میں لکھا ہے: ’’ وَلَا مِیْرَاثَ إِلَّا بَعْدَ أَدَائِ الدَّیْنِ وَالْوَصِیَّۃِ۔ ‘‘[2] ’’ میراث قرض کی ادائیگی اور وصیت کے[پورا کرنے کے]بعد ہے۔ ‘‘ وارثوں کی صِغرسنی اور معاشی حالت کی کمزوری کی صورت میں بھی وراثت کی تقسیم، قرض کی ادائیگی کے بعد ہی ہوگی۔ امام احمد اور امام ابن ماجہ نے حضرت سعد بن اطول رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: ’’ مَاتَ أَخِيْ، وَتَرَکَ ثَلَاثَمِائَۃَ دِیْنَارٍ، وَتَرَکَ صِغَارًا، فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَ عَلَیْھِمْ، فَقَالَ لِيْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم:إِنَّ أَخَاکَ مَحْبُوْسٌ بِدَیْنِہِ، فَاذْھَبْ فَاقْضِ عَنْہُ۔ ‘‘ [1] سورۃ النساء ؍ الآیۃ ۱۲۔ [2] تفسیر القرطبي ۵؍ ۶۱۔