کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 141
پر مقدم ہے۔ ‘‘ آیت شریفہ میں وصیت کے پہلے ذکر کرنے کا تقاضا یہ نہیں، کہ آغاز بھی اسی کے ساتھ کیا جائے، کیونکہ آیت شریفہ میں موجود لفظ {أَوْ} ترتیب پر دلالت نہیں کرتا۔ امام ابوبکر جصاص لکھتے ہیں: ’’ وَتَقْدِیْمُ الْوَصِیَّۃِ عَلَی الدَّیْنِ فِيْ الذِّکْرِ غَیْرُ مُوْجِبٍ لِلتَّبْدِئَۃِ بِھَا عَلَی الدَّیْنِ، لِأَنَّ {أَوْ} لَا تُوْجِبُ التَّرْتِیْبَ۔ ‘‘ ’’ وصیت کے قرض سے پہلے ذکر کرنے سے یہ لازم نہیں آتا، کہ قرض سے پہلے ابتدا بھی اسی کے ساتھ کی جائے، کیونکہ لفظ {أَوْ} سے ترتیب لازم نہیں ہوتی۔ ‘‘[1] باقی وصیت کے قرض سے پہلے ذکر کرنے کی مفسرین نے متعدد حکمتیں [2]بیان کی ہیں، جن میں سے ایک یہ ہے، کہ وصیت میں کوتاہی کا اندیشہ، قرض کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ وصیت کرنے والا تو فوت ہوچکا ہوتا ہے، مگر قرض خواہ ادائیگی قرض میں کوتاہی کی راہ میں موثر رکاوٹ ہوتے ہیں۔ [3] ۲۔ تقسیم وراثت کا ادائیگی قرض کے بعد ہونا: اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ [1] أحکام القرآن ۱؍ ۹۵ ؛ نیز ملاحظہ ہو: أحکام القرآن لابن العربي ۱؍ ۳۴۳ ؛ وزاد المسیر لابن الجوزي ۲؍ ۲۸ ؛ وفتح الباري ۵؍ ۳۷۸۔ [2] حافظ ابن حجر نے اس کی چھ حکمتیں بیان کی ہیں۔(ملاحظہ ہو: فتح الباري ۵؍ ۳۷۸)۔ [3] ملاحظہ ہو: تفسیر أبي السعود ۲؍ ۱۵۰ ؛ والإکلیل في استنباط التنزیل للسیوطي ص ۸۲۔