کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 139
ائمہ شافعی، احمد، ترمذی، ابن ماجہ اور ابو داؤد طیالسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، کہ انہوں نے فرمایا: ’’إِنَّکُمْ تَقْرَؤُوْنَ ھٰذِہِ الْآیَۃ:(مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ)إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم قَضَی بِالدَّیْنِ قَبْلَالْوَصِیَّۃِ۔‘‘[1] ’’ بلاشبہ تم یہ آیت پڑھتے ہو:’’ وصیت کے بعد، جو تم وصیت کرتے ہو، یا قرض(کے بعد)‘‘ اور بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت سے پہلے قرض ادا کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ ‘‘ امام ترمذی نے تحریر کیا ہے: ’’ وَالْعَمَلُ عَلیٰ ھٰذَا عِنْدَ عَامَّۃِ أَھْلِ الْعِلْمِ أَنَّہُ یُبْدَأُ بِالدَّیْنِ قَبْلَ الْوَصِیَّۃِ۔ ‘‘[2] ’’ عام اہل علم کا عمل اسی پر ہے، کہ بے شک وصیت سے پہلے قرض[کی ادائیگی]سے ابتدا کی جاتی ہے۔ ‘‘ [1] بدائع المنن في جمع و ترتیب مسند الشافعي والسنن، کتاب الوقف والوصایا، باب ماجاء في الدین وقضائہ قبل الوصیۃ والتشدید فیہ، ۲؍ ۲۲۵۔ ۲۲۶ ؛ والمسند، جزء من رقم الحدیث ۱۲۲۱، ۲؍ ۲۹۳ ؛(ط۔ دار المعارف مصر) ؛ وجامع الترمذي، أبواب الفرائض، باب ماجاء في میراث الإخوۃ من الأب والأم، جزء من رقم الحدیث ۲۱۷۴، ۶؍ ۲۲۶ ؛ وسنن ابن ماجہ، أبواب الوصایا، الدین قبل الوصیۃ، جزء من رقم الحدیث ۲۷۴۷، ۲؍ ۱۱۷ ؛ ومسند أبي داود الطیالسی، جزء من رقم الحدیث ۱۷۵، ۱؍ ۱۴۸۔ الفاظِ حدیث جامع الترمذی کے ہیں۔ امام ترمذی نے حدیث کے ایک راوی [الحارث] کے متعلق لکھا ہے، کہ بعض اہل علم نے اس پر تنقید کی ہے۔(ملاحظہ ہو: جامع الترمذي ۶؍ ۲۲۷)؛ البتہ شیخ البانی نے اس حدیث کے معنی کی ایک دوسری حدیث سے تایید کی بنا پر اس کو [حسن] کہا ہے:(ملاحظہ ہو: إرواء الغلیل، رقم الحدیث ۱۶۶۷، ۶؍ ۱۰۸۔ ۱۰۹ ؛ نیز ملاحظہ ہو: صحیح سنن الترمذي ۲؍ ۲۱۲ ؛ وصحیح سنن ابن ماجہ ۲؍ ۱۱۲)۔ [2] جامع الترمذي ۶؍ ۲۶۳۔