کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 135
رہا، یہاں تک کہ قرض نے اس کو گھیر لیا۔ پس جس کا اس کے ذمہ قرض ہو، وہ کل دن میں ہمارے پاس آجائے، ہم اس کا مال ان[یعنی اس کے قرض خواہوں]کے درمیان تقسیم کردیں گے۔ خبردار!قرض سے بچو، کیونکہ اس کا آغاز غم اور انتہا مفلسی ہے۔ ‘‘ اس سلسلے میں علامہ قرطبی تحریر کرتے ہیں: ’’ فَلِلْحَاکِمِ أَنْ یَحْجُرَ عَلَیْہِ، وَیَمْنَعَہُ مِنَ التَّصُرُّفِ فِیْمَا بِیَدِہِ، وَیُحَصِّلُہُ، وَیَجْمَعُ الْغُرَمَائَ فَیُقَسِّمُہُ عَلَیْھِمْ۔ وَھٰذَا ھُوَ مَذْھَبُ الْجَمْہُوْرِ مِنَ الصَّحَابَۃِ وَغَیْرِھِمْ کَعُمْرَ، وَعُثْمَانَ، وَعَلَیٍّ، وَابْنِ مَسْعُوْدٍ، وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ رضی اللّٰه عنہم وَالْأَوْزَاعِيِّ، وَمَالِکٍ، وَالشَّافِعِیِّ وَأَحْمَدَ۔ وَقَالَ النَخَعِيُّ، وَالْحَسَنُ الْبَصَرِيُّ، وَأَبُوْ حَنِیْفَۃُ:’’ لَیْسَ لِلْحَاکِمِ أَنْ یَحْجُرَ عَلَیْہِ، وَلَا یَمْنَعُہُ مِنَ التَّصَرُّفِ فِيْ مَالِہِ، لٰکِنْ یَحْبِسُہُ لِیُوَفَيَّ مَا عَلَیْہِ، وَیَبْیُعُ مَا عِنْدَہُ۔‘‘ وَالْحُجَّۃُ لِلْحَمْہُوْرِ عَلیٰ ھٰؤُلَائِ حَدِیْثُ تَفْلِیْس مُعَاذٍ رضی اللّٰه عنہ الْمُتَقَدَّم، وَکَذٰلِکَ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضی اللّٰه عنہ بِالْجُہَنِيِّ، وَلَمْ یُخَالِفْہُ أَحَدٌ۔ ‘‘[1] ’’ حاکم کو اختیار ہے، کہ اس پر[الحجر]عائد کردے اور اس کے ہاں موجود مال میں حق استعمال سے اس کو محروم کردے۔ اس کے مال کو جمع کرے اور قرض خواہوں کو جمع کرکے ان میں تقسیم کردے۔ حضرات صحابہ اور دیگر اہل علم میں جمہور جیسے عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہم، [1] ملاحظہ ہو: المفہم ۴؍ ۴۳۱۔ ۴۳۲۔