کتاب: قرض کے فضائل ومسائل - صفحہ 128
’’[فِيْ الْحَضَرِ]إِشَارَۃٌ إِلَی أنَّ التَّقْیِ یْدِ بِالسَّفَرِ فِيْ الْآیَۃِ خَرَجَ لِلْغَالِبِ فَلَا مَفْھُوْمَ لَہُ لِدَلاَ لَۃِ الْحَدِیْثِ عَلَی مَشْرُوْعِیَّتِہِ فِیْ الْحَضَرِ۔ ‘‘[1] ’’[حضر میں]اس میں یہ اشارہ ہے، کہ آیت میں[سفر کی قید]عام حالات کے پیش نظر ہے۔ اس کا[یہ]معنی نہیں[کہ حضر میں رہن رکھنا جائز نہیں]کیونکہ حدیث حضر میں گروی رکھنے کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ ‘‘ حضر میں رہن کے جواز کے بارے میں امام نووی لکھتے ہیں: ’’ وَجَوَازُ الرِّھْنِ فِيْ الْحَضَرِ، وَبِہِ قَالَ الشَّافِعِيُّ وَمَالِکٌ وَأَبُوْ حَنِیْفَۃُ وَالْعُلَمَاء کَافَّۃً إِلَّا مُجَاھِدًا وَدَاوُد۔ ‘‘[2] ’’ حضر میں گروی رکھنے کے جواز کے شافعی، مالک، ابو حنیفہ اور دیگر تمام علماء سوائے مجاہد اور داؤد کے قائل ہیں۔ ‘‘ عدم ادائیگی کی صورت میں رہن شدہ چیز کی فروختگی میں اختلاف: اگر مقروض نے رہن شدہ چیز کو عدم ادائیگی کی صورت میں فروخت کرنے کا حق قرض خواہ کو دیا ہوا ہو، تو وہ اس چیز کو فروخت کرکے اپنا حق وصول کرے گا۔ اگر یہ بات پہلے سے طے نہ پائی ہو، تو قرض خواہ معاملہ قاضی کے پاس لے جائے گا، جو کہ مقروض کو قرض کی واپسی یا گروی شدہ چیز کی فروختگی میں سے ایک بات پر عمل کا پابند کرے گا۔ امام ابن قدامہ نے تحریر کیا ہے: ’’ إِذَا حَلَّ الْحَقُّ لَزِمَ الرَّاھِنَ الْاِیْفَائُ،لِأَنَّہُ دَیْنٌ حَالٌ کَالَّذِيْ لَا رَھْنَ بِہِ، فَإِنْ لَمْ یُوَفِّ، وَکَانَ قَدْ أَذِنَ لِلْمُرْتَھِنْ أَوْ لِلْعَدْلِ فِيْ بَیْعِ الرَّھْنِ، بَاعَہُ، وَوَفَّی الْحَقَّ مِنْ ثَمَنِہِ، وَمَا فَضَلَ مِنْ [1] فتح الباري ۵؍ ۱۴۰۔ [2] شرح النووي ۱۱؍ ۴۰۔