کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 312
اپ کر کے باہر نکلتی ہیں اور میک اپ کرنے سے ان کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے کہ غیر مرد انہیں دیکھیں۔ یہ بات شریعت کو بالکل پسند نہیں ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "کوئی مرد کسی عورت سے خلوت میں بات نہ کرے مگر یہ کہ ان میں کوئی تیسرا شیطان ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے شریعت نے عورت کے سربراہ مملکت ہونے سے منع فرمایا۔ چنانچہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا کہ اہل فارس نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنی مملکت کا سربراہ بنا لیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لن يفلح قوم ولّوا امرهم امرأة)
"وہ قوم ہرگز فلاح نہیں پا سکتی جس نے اپنے امور میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا۔"
(بخاری: 2/637، 1052، ترمذی: 2/51، نسائی 2/43، مستدرک حاکم: 4/525، مسند احمد: 5/43، رقم: 51047، مسند ابی داؤد طیالسی، رقم: 878، ابن حبان: 10/4516، مصنف ابن ابی شیبہ: 5/266، سنن کبریٰ بیہقی: 10/117، شرح السنہ، رقم: 2486)
قاضی شوکانی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
"یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت حکومت و ولایت کی اہل نہیں ہے اور کسی قوم کے لئے عورت کو اپنا سرپرست مقرر کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ ایسے فعل سے بچنا ضروری ہے جو عدم فلاح اور خسران کا موجب ہو۔"
(نیل الاوطار: 9/168)
ایسا ہی امام قرطبی اور علامہ عزیزی نے لکھا ہے۔
(تفسیر قرطبی: 13/183، السراج المنیر ص: 210)
مشہور محدث اور فقیہ علامہ علی القاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:
(لا تصلح المرأة أن تكون اماماً ولا قاضياً)
(مرقات: 7/215)
"عورت امامت اور قضا کے منصب کی صلاحیت نہیں رکھتی۔"