کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 311
چادروں سے چھپائیں۔ صرف ایک آنکھ ظاہر ہو۔ (الحجاب والسفور ص: 52)
ایک حدیث میں ہے کہ اگر عورتیں کسی ضرورت کے تحت باہر نکلیں تو خوشبو لگا کر نہ نکلیں۔ چنانچہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جس عورت نے خوشبو کا استعمال کیا ہو وہ ہمارے ساتھ رات کی پچھلی (عشاء کی) نماز میں نہ آئے۔" (رواہ ابوداؤد، رقم: 4175، نسائی: 8/154)
رات کو آنے میں فتنے کا بیشتر احتمال ہوتا ہے۔ اس سے دوسری نمازوں کا بھی معلوم ہو سکتا ہے کہ دن کو عورتوں کی طرف توجہ زیادہ ہو گی۔
ایک اور حدیث میں ارشاد فرمایا: "جس عورت نے اس مسجد میں آنے کے لئے خوشبو لگائی اس کی نماز قبول نہیں ہوتی جب تک واپس جا کر اس طرح کا غسل نہ کرے جیسا کہ جنابت کا غسل ہوتا ہے۔" جنابت کے غسل سے یہ مراد ہے کہ خوب اچھی طرح جسم کو صاف کرے تاکہ خوشبو کا اثر زائل ہو جائے اور آئندہ کو عبرت ہو کہ مسجد میں جانے کے لئے ایسا نہ کرنا چاہیے۔ (ابوداؤد: 4174)
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے اس بارہ میں ایک روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جب کوئی عورت خوشبو لگا کر لوگوں پر گزرے تاکہ وہ اس کی خوشبو پائیں تو وہ ایسی اور ویسی ہے۔ آپ نے شدید بات فرمائی۔ ترمذی اور نسائی کی روایت میں ہے کہ وہ زانیہ ہے۔
(رواہ النسائی: 8/135، ابوداؤد، رقم: 4173، ترمذی، رقم: 2786 وقال: حسن صحیح)
ان احادیث سے واضح ہوا کہ عورت کسی خاص ضرورت کے تحت باہر نکلے اور پھر اس کے باہر نکلنے پر شریعت نے مختلف قیود لگائیں جیسے شرم، حیاء اور اللہ کا خوف اس کے دل میں ہو۔
مختصر یہ کہ عورت کا اگرچہ باہر نکل کر کام کرنا اگرچہ شریعت نے ضرورت کے تحت اس کی اجازت دی ہے، لیکن اس پر کچھ پابندیاں لگا دیں۔ پھر عورت کو غیر مردوں سے خلوت میں ملنے سے منع کیا۔ کیونکہ شیطان مرد اور عورت دونوں کے دلوں میں مختلف وساوس ڈال سکتا ہے۔ پھر جب کہ اس زمانہ عورتیں تبرج جاہلیت کے ساتھ اور پورا میک