کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 310
ہاں گنہگار ہو گی۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (المرأة عورة، فاذا اخرجت استشرفها الشيطان) (ترمذی رقم 1173، جامع الاصول: 6/665) ایک اور حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "میں نے اپنے بعد عورتوں کے فتنہ سے زیادہ ضرر رساں اور کوئی فتنہ نہیں چھوڑا۔" (بخاری، رقم: 5096، مسلم: 2740، عن اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ) اور قرآن حکیم میں ہے: (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ) (النور: 31) "اور عورتیں اپنے دو پٹوں کو اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔" اس آیت میں بتایا یہ گیا کہ عورتیں اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں۔ زینت دو قسم کی ہے۔ ایک ظاہرہ زینت ہے۔ وہ عورتوں کا لباس ہے اور ایک مخفی زینت ہے۔ وہ عورتوں کے زیورات ہیں۔ (جامع البیان، رقم: 19644) سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا! اللہ تعالیٰ ہجرت کرنے والی خواتین پر رحم فرمائے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی " وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ" تو انہوں نے اپنی چادروں کو پھاڑ کر دو ٹکڑے کئے اور ان سے اپنے سینوں کو ڈھانپ لیا۔ (جامع البیان، رقم: 19665، ابوداؤد، رقم: 4100، تفسیر ابن کثیر سورۃ النور: 3/379۔380، بخاری: 8/4759، تفسیر ابن ابی حاتم: 8/2575) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور اپنی زیبائش صرف اپنے شوہروں پر ظاہر کریں۔۔۔" اس زیبائش سے مراد زیورات وغیرہ ہیں، اور رہے عورتوں کے بال تو ان کو ان کے شوہروں کے سوا اور کسی کے سامنے ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔" (جامع البیان: 14669) علی بن طلحہ بن ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا کہ جب وہ کسی ضرورت سے باہر نکلیں تو اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے