کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 309
ایک یہودی کو مار دیا تھا۔ (سیرۃ ابن ہشام: 3/81+182) ایک مرتبہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ جہاد مسلمان مردوں پر فرض کیا گیا ہے، اگر وہ کامیاب ہوتے ہیں تو ان کے لئے اجر عظیم ہے اور اگر وہ شہید ہو جاتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زندہ ہیں اور رزق دئیے جاتے ہیں لیکن ہم عورتوں کا گروہ اس سے محروم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جو عورت تمہیں ملتی ہے اس کو میری طرف سے پیغام پہنچا دو۔ (أن طاعة المرأة زوجها واعترافها بحقه يعدل ذالك، وقليل منكن من يفعله) (الترغیب والترہیب: 4/2836 ص 120، وذکر بنجوہ ابن عبدالبر فی الاستیعاب، برقم: 3233) اسی سلسلہ میں ایک اور روایت ہے کہ جس میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم سمجھ رہی ہیں کہ جہاد سب سے افضل عمل ہے۔ کیا ہم جہاد نہ کریں؟" حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ (لكن افضل الجهاد حج مبرور) (بخاری مع الفتح: 6/2808) "لیکن سب سے افضل جہاد (عورتوں کے لئے) حج مبرور ہے۔" اس لئے اگرچہ عورت کو باہر کام کرنے کی اجازت ہے لیکن گھر میں اس کا کام کرنا افضل ہے۔ اگرچہ وہ جہاد کر سکتی ہے لیکن حج اس کے لئے افضل الجہاد ہے۔ اگرچہ وہ مسجد میں جمعہ کی نماز پڑھ سکتی ہے، لیکن اس کا گھر میں نماز پڑھنا بہتر ہے۔ لہٰذا ایک دانشور اور عقل مند عورت افضل شے اپنے لئے اختیار کرتی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ بالا حدیث میں متنبہ فرما دیا کہ عورت کا اپنے خاوند کی اطاعت و فرمان برداری جہاد کے برابر ہے۔ لیکن بہت کم عورتیں اس بات کو سمجھتی ہیں۔ اگر کوئی عورت باہر کام کرنے پر مجبور ہو اور اس کے معاشی حالات اس کو باہر کام کرنے پر مجبور کر دیں تو اس کے لئے شرط یہ ہے کہ بغیر میک اپ اور بناؤ سنگھار اور مردوں سے عدم خلوت ہو، وگرنہ وہ اللہ تعالیٰ کے