کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 308
ہو۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (علموا ابناءكم السباحة والرمي، والمرأة الغزل) (رواہ البیہقی فی شعب الایمان، الفتح الکبیر: 2/231) "اپنے بچوں کو تیراکی اور تیر اندازی سکھاؤ اور عورتوں کو چرخہ کاتنا۔" چرخہ کاتنے سے مراد ہر وہ کام جو عورت کی گھریلو زندگی کے لئے مفید ہو اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: (المغزل بيد المرأة احسن من الرمح بيد المجاهد في سبيل اللّٰه) (حقوق الانسان فی الاسلام للدکتور محمد الزحیلی ص: 287) "عورت کے ہاتھ میں چرخہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ کے ہاتھ میں نیزہ سے زیادہ اچھا لگتا ہے۔" عورتیں کبھی کبھی وہ کام اور عبادات بھی کر سکتی ہیں جو مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ جیسے جمعہ، جماعت اور جہاد وغیرہ اور جہاد میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا جیسے سیدہ ام عمارہ رضی اللہ عنہا جنگ احد میں ابن قمیئہ۔ اقماہ اللہ۔ نے زخمی کر دیا تھا اور اس کے زخموں سے خون جاری تھا۔ ان کو میدان جنگ میں بڑی چوٹیں آئی تھیں۔ (ابن ہشام: 3/66) اسی طرح سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (یہ سیدنا ابو طلحہ انصاری کی بیوی تھیں جن کے ہاتھوں سے کئی کمانیں ٹوٹیں) کو دیکھا کہ پنڈلی کی پازیب تک کپڑے چڑھائے پیٹھ پر پانی کے مشکیزے لا رہی تھیں اور زخمیوں کو پلا رہی تھیں۔ (بخاری: 1/403، 2/581) اسی طرح سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی والدہ ام سلیط رضی اللہ عنہا بھی مشک میں پانی بھر بھر کر زخمیوں کے لئے لاتی تھیں۔ سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم دھوئے اور چٹائی کا ٹکڑا لے کر اس کو جلایا اور زخموں پر چپکا دیا۔ (بخاری: 2/584) ایسے ہی صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے جنگ خندق میں قلعہ سے باہر نکل کر