کتاب: پیغمبر اسلام اور بنیادی انسانی حقوق - صفحہ 307
(قَالَتْ إِحْدَاهُمَا يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ ۖ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ ﴿٢٦﴾) (قصص: 26) "ان دونوں لڑکیوں میں سے ایک نے کہا: اے ابا جان! آپ ان کو اجرت پر رکھ لیجئے، بےشک آپ جس کو اجرت پر رکھیں گے ان میں بہترین وہی ہے جو طاقت ور اور ایمان دار ہو۔" بعض روایات میں آتا ہے کہ سیدنا شعیب علیہ السلام نے اپنی بیٹی سے پوچھا کہ تو نے یہ جو کہا ہے کہ یہ (موسیٰ علیہ السلام) قوی اور امین ہیں، تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ کہ یہ طاقت ور اور ایمان دار ہیں؟ اس پر ان کی بیٹی نے کہا کہ جس کنویں سے انہوں نے پانی پلایا تھا اس پر اتنا بھاری پتھر رکھا ہوتا ہے کہ دس آدمی مل کر اس پتھر کو اٹھاتے ہیں، لیکن انہوں نے اکیلے ہی اس پتھر کو اٹھا لیا تھا۔ یہ ان کے طاقت ور ہونے دلیل ہے۔ اور ان کے ایمان دار اور متقی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ راستہ بتانے کے لئے میں ان کے آگے آگے چل رہی تھی۔ ہوا سے بار بار میری چادر اڑ جاتی تھی تو انہوں نے کہا: تم پیچھے پیچھے چلو، میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ میری نظر تمہارے جسم کے کسی حصہ پر نہ پڑے، اور راستہ کی نشاندہی کے لیے پیچھے سے کوئی پتھر یا کنکری مار دیا کرو۔ (تفسیر ابن ابی حاتم، رقم: 16843، 16853) اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ملازم رکھنے کے لئے یہ دو صفات کا ہونا ضروری ہے۔ ایک تو جو کام اس نے کرنا ہے اس کی اہلیت ہو اور دوسری صفت یہ ہے کہ ایمان دار ہو۔ یہ ایمان داری کی صفت آج کل ملازمین میں مفقود ہے کہ ملازم رکھتے وقت اس کا التزام نہیں کیا جاتا۔ عورت کو اسلام میں باہر کا کام اس صورت میں کرنے کی اجازت ہے اگر یہ کام خاوند کی خدمت اولاد کی تعلیم و تربیت میں مخل نہ ہو اور پردہ، حیا اور غیر مردوں سے عدم خلوت بھی اس کے لئے ضروری ہے۔ اس کی قلبی رقت جو فطری طور پر اس میں موجود ہے، اس کے تاجر اور سیاسی بننے کے بجائے اس کے بیوی اور ماں بننے کے لئے ہے۔ اس وجہ سے اس کو کام بھی ایسا کرنا چاہیے جو اس کی گھر کی اندرونی زندگی کے لئے مفید