کتاب: نور القرآن - صفحہ 568
فَالْيَوْمَ نُنَجِّيكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُونَ لِمَنْ خَلْفَكَ آيَةً ۚ وَإِنَّ كَثِيرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ آيَاتِنَا لَغَافِلُونَ ﴾( یونس 10: 90۔92) نافرمان تھا اور تو فساد کرنے والوں میں سے تھا۔ چنانچہ آج ہم تجھے نجات دیں گے تیرے بدن سمیت (تیراجسم بچا کر سمندر سے باہر نکال پھینکیں گے)، تاکہ تو اپنے پیچھے والوں کے لیے نشان(عبرت) ہو، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے البتہ غافل ہیں۔‘‘ محترم قارئین! دنیا کی زندگی تھوڑی سی ہے۔ یہ صرف اس لیے دی گئی ہے کہ انسان آخرت کی تیاری کرے۔ آخرت کی تیاری کے لیے اللہ تعالیٰ کے حکموں کو اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کے مطابق پورا کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ اپنے نفس کے پھندوں میں پھنس کر اللہ تعالیٰ کے احکام سے روگردانی کر رہے ہیں اور من مانی زندگی گزار رہے ہیں وہ بڑے ہولناک اور یقینی خطرے کی زد میں ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی حالت میں موت آ گئی تو قبر کے ہولناک عذاب کے علاوہ نا معلوم مدت تک دوزخ کے شعلوں میں جلنا پڑے گا۔ اس لیے لمحۂ موجود کو غنیمت جانیے اور موت سے پہلے جلد از جلد توبہ کر کے ایمان اور اعمال صالحہ کی زندگی بسر کرنے کا اہتمام کیجیے۔ موت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ فرعون دریائے نیل کی موجوں میں غرق ہونے لگا تو نافرمانی سے تائب ہو کر اللہ پر ایمان لانے کی باتیں کرنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ قبول نہیں فرمائی اور اس کے باغیانہ کرتوتوں کی وجہ سے اُسے ہمیشہ کے لیے نشانِ عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام جاننے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک طریقے سیکھنے کے لیے علمائے حق کی خدمت میں بیٹھیے اور قرآن و سنت پر مبنی لٹریچر کا مطالعہ کیجیے۔ خود بھی دین اسلام کی تعلیمات پر عمل کیجیے اور اپنے ماں باپ، بچوں، عزیز و اقارب اور جملہ احباب کو بھی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی دعوت دیجیے۔ عملی طور پر ایسا کر کے تو دیکھیے، اللہ تعالیٰ آپ کو دائمی کامیابی عطا فرمائے گا اور آپ دنیا اور آخرت میں سرفراز رہیں گے۔