کتاب: نور القرآن - صفحہ 566
إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ﴾( المومنون 23: 112۔114) (وہاں) تھوڑا سا وقت ہی رہے، کاش! تم (یہ بات دنیا میں) جانتے ہوتے۔‘‘ ﴿ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴾ ( السجدۃ 32: 5) ’’وہی آسمان سے زمین تک (سارے) معاملے کی تدبیر کرتا ہے، پھر ایک دن میں، جس کی مقدار تمھارے شمار کے مطابق ایک ہزار سال ہے، وہ (معاملہ) اسی کی طرف چڑھتا ہے۔‘‘ ﴿ سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ ﴿١﴾ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ ﴿٢﴾ مِّنَ اللَّـهِ ذِي الْمَعَارِجِ ﴿٣﴾ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿٤﴾ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا﴾ ( المعارج 70: 1۔5) ’’ایک سائل نے عذاب مانگا جو واقع ہونے والا ہے۔ کافروں پر، کوئی اسے ٹالنے والا نہیں۔ اس اللہ کی طرف سے جو اونچے درجوں والا ہے۔ فرشتے اور روح (جبریل) اس کی طرف چڑھیں گے ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔ تو (اے نبی!) آپ صبر جمیل سے کام لیجیے۔‘‘