کتاب: نور القرآن - صفحہ 565
تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ ﴾(التوبۃ 36:9) (مہینوں) میں اپنے آپ پر ظلم نہ کرو۔ ‘‘ ﴿ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ مَا خَلَقَ اللَّـهُ ذَٰلِكَ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ ﴾ ( یونس 10: 5) ’’وہی ہے (اللہ) جس نے سورج کو نہایت روشن بنایا اور چاند کو نور اور اس کی منزلیں مقرر کیں، تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کر سکو۔ یہ (سب کچھ) اللہ نے حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی آیتیں تفصیل سے ان لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو جانتے ہیں۔‘‘ ﴿ وَجَعَلْنَا اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ آيَتَيْنِ ۖ فَمَحَوْنَا آيَةَ اللَّيْلِ وَجَعَلْنَا آيَةَ النَّهَارِ مُبْصِرَةً لِّتَبْتَغُوا فَضْلًا مِّن رَّبِّكُمْ وَلِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ ۚ وَكُلَّ شَيْءٍ فَصَّلْنَاهُ تَفْصِيلًا ﴾( بنی اسرائیل 17: 12) ’’اور ہم نے رات اوردن کو دو نشانیاں بنایا، پھر ہم نے رات کی نشانی تو محو(بے نور) کر دی اور دن کی نشانی روشن بنائی تاکہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم برسوں کی گنتی اورحساب جان لو۔ اورہم نے ہر چیزخوب تفصیل سے بیان کر دی ہے۔‘‘ ﴿ وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّـهُ وَعْدَهُ ۚ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴾( الحج 22: 47) ’’اور وہ آپ سے جلد عذاب مانگتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا اور بلاشبہ آپ کے رب کے ہاں ایک دن تمھاری گنتی کے حساب سے ایک ہزار برس کی طرح ہے۔‘‘ ﴿ قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ ﴿١١٢﴾ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ ﴿١١٣﴾ قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ ’’اللہ فرمائے گا: زمین میں تم کتنے سال رہے؟ وہ کہیں گے: ہم ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ رہے، گنتی کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ اللہ فرمائے گا:واقعی تم