کتاب: نور القرآن - صفحہ 546
وَلَمْ أَكُ بَغِيًّا ﴿٢٠﴾ قَالَ كَذَٰلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ ۖ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا ۚ وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّا ﴿٢١﴾ فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا ﴿٢٢﴾ فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَىٰ جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَـٰذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّا ﴿٢٣﴾ فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلَّا تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّا ﴿٢٤﴾ وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّا ﴿٢٥﴾فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا ۖ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَـٰنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّا ﴿٢٦﴾ فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ ۖ قَالُوا يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا ﴿٢٧﴾ يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا ﴿٢٨﴾ فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ ۖ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا ﴿٢٩﴾ قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّـهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا ﴿٣٠﴾ وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا ﴿٣١﴾ وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا ﴿٣٢﴾ وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ نہایت پاکیزہ لڑکا عطا کروں۔ اس نے کہا: میرے لیے لڑکا کیونکر ہوگا، جبکہ مجھے کسی بشر نے نہیں چھوا اورنہ میں بدکار رہی ہوں۔ اس (فرشتے) نے کہا:اسی طرح ہوگا، تیرے رب نے کہا ہے کہ وہ مجھ پربہت آسان ہے، تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اوراپنی طرف سے رحمت بنائیں اور یہ امر طے شدہ ہے۔ بالآخر وہ حمل سے ہو گئیں تو اس (حمل) کو لے کر دور کی ایک جگہ میں الگ جا بیٹھی۔ پھر دردِ زِہ اسے کھجور کے ایک تنے کی طرف لے آیا، (تو) وہ بولی: اے کاش! میں اس سے پہلے مرجاتی اوربھولی بھولائی ہوتی۔ پھراس (فرشتے) نے اس کے نیچے (کے علاقے) سے اسے آواز دی کہ غم نہ کھا، تیرے رب نے تجھ سے نیچے (کے علاقے میں) ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔ اور تو کھجور کا تنا اپنی طرف ہلا، وہ تجھ پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرائے گا۔ چنانچہ تو کھا اور پی اور (اپنی) آنکھیں ٹھنڈی کر، پھر اگر تو انسانوں میں سے کسی کو دیکھے تو اس سے کہہ دینا : بے شک میں نے رحمن کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، لہٰذا آج میں کسی انسان سے ہرگز کلام نہیں کروں گی۔ پھر وہ اس(بچے) کو اٹھائے اپنی قوم کے پاس آئی، تو وہ کہنے لگے: اے مریم! یقینًاتو نے بہت براکام کیا ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تو تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی بدکار تھی۔ چنانچہ اس نے اس(بچے) کی طرف