کتاب: نور القرآن - صفحہ 536
فَاقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِندَ بَارِئِكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۚ إِنَّهُ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ﴿٥٤﴾ وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ نَرَى اللَّـهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّاعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ﴿٥٥﴾ ثُمَّ بَعَثْنَاكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ﴿٥٦﴾ وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ﴿٥٧﴾وَإِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا هَـٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ ۚ وَسَنَزِيدُ الْمُحْسِنِينَ ﴿٥٨﴾ فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ فَأَنزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ﴿٥٩﴾ وَإِذِ اسْتَسْقَىٰ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ ۖ كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّـهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿٦٠﴾ وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَىٰ لَن نَّصْبِرَ عَلَىٰ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّائِهَا
جب موسٰی نے اپنی قوم سے کہا :اے میری قوم! بے شک تم نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے بچھڑے کو (معبود) بنا کر، لہٰذا اب تم اپنے پیدا کرنے والے کے حضور توبہ کرو، اور تم اپنے آپ کو قتل کرو، یہ تمھارے لیے تمھارے پیدا کرنے والے کے نزدیک بہت بہتر ہے۔ پھر اللہ نے تم پر تو جہ کی، بے شک وہی بہت توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اور جب تم نے کہا: اے موسٰی!ہم ہرگز تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ ہم اللہ کو سامنے (علانیہ) دیکھ لیں تو تمھیں بجلی نے پکڑ لیا اور تم دیکھ رہے تھے۔ پھر ہم نے تمھیں زندہ کیا تمھاری موت کے بعد تاکہ تم شکر کرو۔ اور ہم نے تم پر سایہ کیا بادلوں کا اور (کھانے کے لیے) تم پر من و سلوی اتارا (اور کہا کہ) ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تمھیں عطا کیں اور انھوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے آپ ہی پر ظلم کرتے تھے۔ اور جب ہم نے کہا :تم اس بستی میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے تم چاہو جی بھر کر کھاؤ اور تم دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور کہنا: اے اللہ !ہمیں بخش دے، تو ہم تمھاری خطائیں معاف کر دیں گے اور عنقریب ہم احسان کرنے والوں کو زیادہ دیں گے۔ تو جن لوگوں نے ظلم کیا انھوں نے بات بدل دی، سوائے اس کے جو ان سے کہی گئی تھی، پھر ہم نے ان ظالم لوگوں پر