کتاب: نور القرآن - صفحہ 525
بَيِّنَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ﴿٣٥﴾ وَإِلَىٰ مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا فَقَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ ﴿٣٦﴾ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَأَصْبَحُوا فِي دَارِهِمْ جَاثِمِينَ ﴿٣٧﴾ وَعَادًا وَثَمُودَ وَقَد تَّبَيَّنَ لَكُم مِّن مَّسَاكِنِهِمْ ۖ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِيلِ وَكَانُوا مُسْتَبْصِرِينَ ﴿٣٨﴾وَقَارُونَ وَفِرْعَوْنَ وَهَامَانَ ۖ وَلَقَدْ جَاءَهُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ وَمَا كَانُوا سَابِقِينَ ﴿٣٩﴾ فَكُلًّا أَخَذْنَا بِذَنبِهِ ۖ فَمِنْهُم مَّنْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِ حَاصِبًا وَمِنْهُم مَّنْ أَخَذَتْهُ الصَّيْحَةُ وَمِنْهُم مَّنْ خَسَفْنَا بِهِ الْأَرْضَ وَمِنْهُم مَّنْ أَغْرَقْنَا ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَـٰكِن كَانُوا أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ﴾ ( العنکبوت 29: 28۔40)
تجھے اور تیرے گھر والوں کو نجات دینے والے ہیں، سوائے تیری بیوی کے، وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ بے شک ہم اس بستی والوں پر ان کے فسق کی وجہ سے، آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں۔ اور بلاشبہ ہم نے اس بستی کو ان لوگوں کے لیے (بطور) کھلی نشانی چھوڑ رکھاہے جو عقل رکھتے ہیں۔ اور (ہم نے) مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کوبھیجا تو اس نے کہا: اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو اور یومِ آخرت کی امید رکھو اور تم زمین میں فساد کرتے نہ پھرو۔ پھر انھوں نے اسے جھٹلایا، تو انھیں زلزلے نے آن پکڑا، پھر وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ اور عاد اور ثمود (کو بھی ہم نے ہلاک کیا) اور یہ بات تمھارے لیے ان کے (تباہ شدہ) گھروں سے واضح ہوچکی ہے اور شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے مزین کردیے تھے، پھر اس نے انھیں سیدھی راہ سے روک دیا، حالانکہ وہ سمجھ بوجھ والے تھے۔ اور قارون اور فرعون اور ہامان کو (بھی ہلاک کردیا) اوربلاشبہ ان کے پاس موسٰی کھلی نشانیاں لے کر آئے، پھر بھی انھوں نے زمین میں تکبر کیا اور وہ (عذاب سے بچ کر) نکل جانے والے نہ تھے۔ پھر ہم نے ہر ایک کو اس کے گناہ پر پکڑا، چنانچہ ان میں سے کوئی تو وہ تھے جن پر ہم نے پتھروں بھری آندھی بھیجی اور ان میں سے