کتاب: نور القرآن - صفحہ 519
تمھیں (ایسے کام پر ) نہ اکسائے کہ تم پر ویسا عذاب آئے جیسا قوم نوح یا قوم ہود یا قوم صالح پر آیا تھا اور لوط کی قوم(کا علاقہ بھی) تم سے کچھ دور نہیں۔ اور تم اپنے رب سے بخشش مانگو، پھر اسی کی طرف توبہ کرو، بے شک میرا رب بڑا رحم کرنے والا، نہایت محبت کرنے والا ہے۔انھوں نے کہا:اے شعیب! جو تو کہتا ہے ہم اس میں سے بہت کچھ نہیں سمجھتے اور بے شک ہم تجھے اپنے درمیان کمزور دیکھتے ہیں۔ اور اگر تیرا قبیلہ نہ ہوتا تو ہم یقینا تجھے سنگسار کردیتے اور تو ہم پر کوئی غلبہ نہیں رکھتا۔ شعیب نے کہا: اے میری قوم! کیا میرا قبیلہ تم پراللہ سے زیادہ دباؤ والا ہے؟ اور تم نے اس(اللہ) کو اپنی پیٹھ پیچھے ڈال رکھا ہے۔ بے شک تم جو عمل کرتے ہو میرا رب انھیں گھیرنے والا ہے۔ اور اے میری قوم! تم اپنی جگہ عمل کرو، بے شک میں بھی عمل کررہا ہوں۔ جلد تم جان لو گے کہ کس پر رسوا کن عذاب آتاہے اورکون جھوٹا ہے۔ اور تم انتظار کرو، بے شک میں بھی تمھارے ساتھ منتظر ہوں۔اور جب ہمارا حکم (عذاب) آیا تو ہم نے نجات دی شعیب کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی رحمت سے اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا انھیں زبردست چیخ نے آپکڑا تو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔ جیسے وہ ان میں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سنو! پھٹکار ہے (اہل) مدین پر جیسے ثمود پر پھٹکار پڑی۔‘‘