کتاب: نور القرآن - صفحہ 518
قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں اور تم ناپ تول کم نہ کرو، بے شک میں تمھیں خوشحال دیکھتا ہوں اور بے شک مجھے تم پر گھیرنے والے عذاب کے دن سے خوف آتا ہے۔ اور اے میری قوم!تم ناپ اور تول انصاف سے پورا کیا کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دیا کرو اور تم زمین میں فسادی بن کر نہ پھرو۔ اللہ کی بچت (جائز نفع) تمھارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور میں تم پر محافظ نہیں ہوں۔انھوں نے کہا:اے شعیب! کیا تیری نماز تجھے یہ حکم کرتی (سکھاتی) ہے کہ ہم ان (معبودوں) کو چھوڑ دیں جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے رہے یا اپنے مالوں میں وہ نہ کریں جوکرنا چاہیں؟ بلاشبہ تو تو بڑا نرم مزاج، بڑا سمجھ دار ہے۔ اس (شعیب) نے کہا: اے میری قوم! بھلا بتاؤ تو، اگر میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں اوراس نے مجھے اپنی طرف سے اچھا رزق دیا ہو(تو کیسے اس کی نافرمانی کروں؟) اور میں یہ نہیں چاہتا کہ تمھاری مخالفت کروں (اس طرح کہ) وہ کام کروں جن سے تمھیں روکتا ہوں۔ میں کچھ نہیں چاہتا سوائے (تمھاری) اصلاح کے جہاں تک مجھ سے ہوسکے۔ اور مجھے(اس کی) توفیق ملنا اللہ کی مدد کے سوا (ممکن) نہیں۔ میں نے اسی پر بھروسا کیا ہے اوراسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ اور اے میری قوم! میری مخالفت