کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 89
مشغول حضرات ہر ہفتہ میں چھٹیوں کے دنوں اور سالانہ تعطیلات میں اس عمل کی بدولت توفیقِ الٰہی سے اپنے لیے نیکیوں کے ذخائر جمع کرسکتے ہیں۔ ک:اگر کوئی خاتون گھر ہی میں نمازِ فجر بروقت اد اکر کے اپنی جائے نماز پر بیٹھی ذکر کرتی رہے،پھر طلوعِ آفتاب کے بعد دو رکعتیں ادا کرے،تو وہ بھی ان شاء اللہ تعالیٰ مذکورہ بالا چاروں احادیث میں بیان کردہ اجر و ثواب کی مستحق ہو گی،کیونکہ اس کی گھر والی نماز مسجد والی نماز سے بہتر ہے۔وَاللّٰہُ تَعَالٰی أَعْلَمُ۔[1] ۔ح۔ رات اور دن کے فرشتوں کا فجر و عصر میں اجتماع ۔ط۔ با جماعت فجر و عصر والوں کے لیے فرشتوں کی شفاعت امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’ تَفْضُلُ صَلَاۃُ الْجَمِیْعِ صَلَاۃَ أَحَدِکُمْ وَحْدَہُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ جُزْئً ا،وَتَجْتَمِعُ مَلَائِکَۃُ اللَّیْلِ وَمَلَائِکَۃُ النَّہَارِ فِيْ صَلَاۃِ الْفَجْرِ۔‘‘ ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْہَرَیْرَۃُ رضی اللّٰهُ عنہ:’’فَاقْرَأُوا إِنْ شِئْتُمْ:(إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ کَانَ مَشْہُوْدًا)۔[2]،[3] ’’تم میں سے ایک شخص کی منفرد نماز سے با جماعت نماز پچیس گنا افضل [1] ملاحظہ ہو: کتاب : ’’ فرشتوں کا درود پانے والے اور لعنت پانے والے‘‘ صفحات ۵۰۔۵۱۔ [2] سورۃ الإسراء ؍ جزء من الآیۃ ۷۸۔ [3] صحیح البخاري، کتاب الأذان، باب فضل صلاۃ الفجر في جماعۃ، رقم الحدیث ۶۴۸، ۲/ ۱۳۷۔