کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 84
’’أَيْ فِيْ عَہْدِہِ وَأَمَانِہِ فِيْ الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ۔‘‘ [1] ’’یعنی دنیا و آخرت میں ان کے حفظ و امان میں۔‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد:[فَمَنْ أَخْفَرَ ذِمَّۃَ اللّٰہِ کَبَّہُ اللّٰہُ فِي النَّارِ لِوَجْہِہِ۔] ’’ سو جس کسی نے اللہ تعالیٰ کی ذمہ داری توڑی،تو اللہ تعالیٰ اسے(دوزخ کی)آگ میں اوندھا ڈال دیں گے۔‘‘ کے محدّثین کرام نے درج ذیل دو معانی بیان کیے ہیں: ۱:(ذِمَّۃَ اللّٰہِ)سے مراد با جماعت نمازِ فجر ہے،جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا امان میسّر آتا ہے اور اسے توڑنے سے مقصود با جماعت نمازِ فجر چھوڑنا اور اس کے بارے میں کوتاہی کرنا ہے۔ایسا کرنے والے کا اللہ تعالیٰ سے عہد ٹوٹ گیا اور وہ اسے چہرے کے بل دوزخ کی آگ میں اُلٹ دیں گے۔ ۲:با جماعت نمازِ فجر ادا کرنے والا اللہ تعالیٰ کی سپرداری میں ہے۔اس سے تعرّض کرنے والے نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں گستاخی کی،جس کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے چہرے کے بل دوزخ کی آگ میں اوندھا ڈال دیں گے۔[2] ۔ز۔ با جماعت فجر کے بعد اشراق تک مسجد میں ذکر کا عظیم ثواب اس بارے میں چار احادیث ذیل میں ملاحظہ فرمایئے: ۱:امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مَنْ صَلّٰی صَلَاۃَ الْغَدَاۃِ فِيْ جَمَاعَۃٍ،ثُمَّ جَلَسَ یَذْکُرُ اللّٰہَ حَتّٰی تَطْلُعَ الشَّمْسُ،ثُمَّ قَامَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ،اِنْقَلَبَ بِأَجْرِ حَجَّۃٍ [1] تحفۃ الأحوذي ۲؍۱۲۔ [2] ملاحظہ ہو: فیض القدیر للمناوي ۶؍۱۴۶۔