کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 81
۔ج۔ نمازِ فجر کے لیے اوّلین جانے والے کے لیے عَلم بردار فرشتے کی رفاقت امام ابن ابی عاصم اور امام ابو نعیم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک حضرت مِیثَم رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: بَلَغَنِيْ: ’’أَنَّ الْمَلَکَ یَغْدُوْ بِرَایَتِہِ مَعَ أَوَّلِ مَنْ یَغْدُوْ إِلَی الْمَسْجِدِ،فَلَا یَزَالُ بِہَا مَعَہُ حَتّٰی یَرْجِعَ،فَیَدْخُلُ بِہَا مَنْزِلَہُ،وَأَنَّ الشَّیْطَانَ یَغْدُوْ بِرَایَتِہِ إِلَی السُّوْقِ مَعَ أَوَّلِ مَنْ یَغْدُوْ،فَلَا یَزَالُ بِہَا مَعَہُ،حَتّٰی یَرْجِعَ،فَیُدْخِلُہَا مَنْزِلَہُ۔‘‘[1] ’’مجھے یہ بات پہنچی ہے: ’’بے شک فرشتہ اپنا عَلم اٹھائے سب سے پہلے مسجد جانے و الے کے ساتھ جاتا ہے اور اس کے واپس گھر داخل ہونے تک اس کے ہمراہ رہتا ہے اور بلاشبہ سب سے پہلے بازار جانے والے کے ہمراہ شیطان اپنا جھنڈا تھامے جاتا ہے۔پھر اپنے عَلم سمیت اس کے واپس(گھر)آنے تک اس کے ساتھ رہتا ہے،یہاں تک کہ وہ اسے(یعنی اپنے جھنڈے [1] منقول از: الترغیب والترہیب ، کتاب الصلاۃ ، الترغیب في صلاۃ العشاء والصبح خاصۃ في جماعۃ، رقم الحدیث ۱۳، ۱؍۲۷۱۔ حافظ ابن حجر نے اسے [صحیح السند موقوف] اور شیخ البانی نے [ صحیح موقوف] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: الإصابۃ في تمییز الصحابۃ ۶؍۱۴۸؛ و صحیح الترغیب والترہیب ۱؍۲۹۹)۔