کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 74
’’جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے لیے[1] تکبیر تحریمہ پاتے ہوئے چالیس دن باجماعت نماز اد اکی،تو اس کے لیے نجات کے دو پروانے تحریر کیے جاتے ہیں:(دوزخ کی)آگ سے آزادی کا پروانہ اور نفاق سے برائت کا پروانہ۔‘‘ حدیث کی شرح میں علامہ طیبی رقم طراز ہیں: اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں منافق کے اعمال سے محفوظ رکھتے ہیں اور مخلص لوگوں کے کاموں کی توفیق عطا فرماتے ہیں اور آخرت میں دوزخ میں منافق کو دیئے جانے والے عذاب سے اسے بچا لیں گے۔ یا اللہ تعالیٰ اس کے لیے گواہی دیں گے،کہ یقینا وہ منافق نہیں،کیونکہ منافق لوگ تو نماز کے لیے اُٹھتے ہوئے سست ہوتے ہیں اور اس کی کیفیت تو ان کے برعکس ہے۔[2] اے اللہ کریم! نجات کے ان دونوں پروانوں کے پانے سے پہلے موت نہ دیجیئے۔آمین یا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ۔ ۔۱۷۔ با جماعت عشاء،فجر اور عصر کے فضائل احادیثِ شریفہ میں تین نمازوں عشاء،فجر اور عصر کے باجماعت اد اکرنے کے مزید فضائل بیان کیے گئے ہیں۔توفیقِ الٰہی سے اس بارے میں آئندہ صفحات میں نو عنوانات کے تحت گفتگو کی جارہی ہے: [1] یعنی اخلاص سے۔ (ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح ۴؍۱۰۲)۔ [2] ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۴؍۱۱۶۵۔