کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 69
ان خصلتوں کے ذکر کے بعد حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ’’یہ پچیس خصلتیں ہیں۔ان میں سے ہر ایک کے متعلق حکم یا ترغیب وارد ہے۔ان کے علاوہ دو خصلتوں کا تعلق جہری نمازوں کے ساتھ ہے اور وہ یہ ہیں: ا:امام کی قرا ٔت کے وقت خاموش رہنا [1] اور توجّہ سے سننا۔ ۲:امام کے[آمین] کہنے کے وقت[آمین] کہنا،تاکہ فرشتوں کے[آمین] کہنے سے موافقت ہو جائے۔‘‘ [2] ۔۱۳۔ نمازِ باجماعت کا بندے کو شیطان سے محفوظ کرنا امام احمد نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ بے شک نبی [1] نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق [امام کی قرأت کے وقت خاموشی] مقتدی کے سورۃ فاتحہ پڑھنے کے بعد ہے۔ امام ترمذی نے حضرت عبادۃ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انھوں نے بیان کیا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (نمازِ) صبح پڑھائی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرأت بھاری ہوگئی۔ جب (نماز سے) فارغ ہوئے، تو فرمایا: ’’بے شک میں تمھیں اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔‘‘ انھوں نے بیان کیا: ’’ہم نے عرض کیا: ’’یارسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم -! (جی) ہاں، اللہ تعالیٰ کی قسم!‘‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اُمّ القرآن (یعنی سورۃ فاتحہ) کے سوا کچھ نہ پڑھو، کیونکہ اسے نہ پڑھنے والے کی نماز نہیں۔‘‘ (جامع الترمذي، أبواب الصلاۃ، باب ما جاء في القراءۃ خلف الإمام، رقم الحدیث ۳۱۰، ۲/۱۶۳)، اس حدیث کو حضراتِ ائمہ ابوداؤد، دارقطنی، ابن حبان، بیہقی اور حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے اسے [حسن]، امام دار قطنی نے اس کی سند کو [حسن]، امام خطابی نے [جید] اور امام حاکم نے [مستقیم] قرار دیا ہے۔ امام بیہقی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲/۱۹۵)۔ [2] ملاحظہ ہو: المرجع السابق ۲؍۱۳۴۔ تنبیہ: حافظ ابن حجر نے باجماعت نماز کی ستائیس گنا فضیلت جہری نمازوں کے ساتھ خاص کی ہے۔ سعودی عرب کے سابق مفتی ٔاعظم شیخ ابن باز کے نزدیک یہ تخصیص محلِّ نظر ہے۔ ان کی رائے میں یہ فضیلت پانچوں نمازوں کے لیے ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے با جماعت نماز میں شامل ہونے والوں کے لیے مزید کرم نوازی ہے۔ وَاللّٰہُ تَعَالیٰ أعْلَمُ۔ (ملاحظہ ہو: تعلیق الشیخ ابن باز علی فتح الباري ۲؍۱۳۴)۔