کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 67
تفاوت کی بنا پر ہوتا ہے۔وَاللّٰہُ تَعَالیٰ أَعْلَمُ۔[1] نمازِ باجماعت کی برتری کے اسباب: محدّثین کرام نے با جماعت نماز کی اس فوقیت کے اسباب بیان کیے ہیں۔حافظ ابن حجر کے بیان کردہ اسباب درجِ ذیل ہیں: ۱: با جماعت نماز ادا کرنے کی نیت سے اذان کا جواب دینا۔ ۲: اس کی خاطر اوّل وقت میں نکلنے میں جلدی کرنا۔ ۳: مسجد کی طرف اطمینان و سکون سے چل کر جانا۔ ۴: دعا کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہونا۔ ۵: مسجد میں داخل ہونے پر[تحیّۃ المسجد] [2] ادا کرنا۔ (یہ پانچوں کام باجماعت نماز اد اکرنے کے ارادے سے سر انجام دے)۔ ۶: جماعت کا انتظار کرنا۔ ۷: فرشتوں کا اس پر درود پڑھنا اور اس کے لیے استغفار کرنا۔ ۸: ان کا اس کے لیے گواہی دینا۔ ۹: اقامت کا جواب دینا۔[3] ۱۰: اقامت کی وجہ سے شیطان کے بھاگ جانے کی بنا پر اس سے بچ جانا۔ ۱۱: امام کے تکبیرِ تحریمہ کہنے کے انتظار میں رکنا۔ [1] دونوں روایتوں کے بظاہر تعارض کو دور کرنے کی غرض سے امام نووی نے تین، حافظ ابن حجر نے گیارہ اور علامہ عینی نے نو وجوہ بیان کی ہیں۔ جَزَاہُمُ اللّٰہُ تَعَالیٰ خَیْراً۔ (ملاحظہ ہو: شرح النووي ۵؍۱۵۱؛ و فتح الباري ۲؍۱۳۲؛ و عمدۃ القاري ۴؍۲۵۹)۔ [2] یعنی مسجد میں داخل ہونے پر دو رکعتیں اد اکرنا۔ [3] اس بارے میں وارد شدہ حدیث ضعیف ہے۔ (ملاحظہ ہو: ضعیف سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب ما یقول إذا سمع الإقامۃ، رقم الحدیث ۱۰۴۔ ۵۷۸، ص ۵۱؛ وإرواء الغلیل، رقم الحدیث ۲۴۱، ۱/۲۵۸)۔