کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 65
اور جب وہ{غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} کہے،تو تم[آمین] کہو،اللہ تعالیٰ تمہاری دعا قبول فرمائیں گے۔‘‘ اللہ اکبر! با جماعت نماز میں[آمین] کہنے کی شان و عظمت کس قدر بلند و بالا ہے! کہنے میں فرشتوں کے ساتھ موافقت پر سابقہ گناہ معاف اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے قبولیتِ دعا کے لیے بشارت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ! اے اللہ کریم! ہمیں اس سے تاحیات فیض یاب فرماتے رہنا۔آمِیْنَ یَا حَيُّ یَا قَیُّوْمُ۔ ۔۱۱۔ کامل وضو کے ساتھ نمازِ باجماعت ادا کرنے پر گناہ معاف امام مسلم نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان فرمایا:’’میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ’’مَنْ تَوَضَّأَ لِلصَّلَاۃِ فَأَسْبَغَ الْوُضُوْئَ،ثُمَّ مَشٰی إِلَیالصَّلَاۃِ الْمَکْتُوْبَۃِ،فَصَلَّاہَا مَعَ النَّاسِ،أَوْ مَعَ الْجَمَاعَۃِ،أَوْ فِيْ الْمَسْجِدِ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ ذُنُوْبَہُ۔‘‘[1] ’’جس شخص نے نماز کے لیے وضو کیا،تو کامل وضو بنایا،پھر فرض نماز کی خاطر چلا اور اسے لوگو ں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ یا مسجد میں ادا کیا،تو اللہ تعالیٰ نے اس کے گناہوں کو معاف فرما دیا۔‘‘ امام ابن خزیمہ اور امام ابن منذر میں سے ہر ایک نے اپنی اپنی کتاب میں اسی معنٰی کی روایت کردہ حدیث پر حسبِ ذیل عنوان تحریر کیا ہے: [فَضْلُ الْمَشْيِ إِلَی الْجَمَاعَۃِ مُتَوَضِّیًا،وَمَا یُرْجٰی فِیْہِ مِنَ [1] صحیح مسلم، کتاب الطہارۃ، باب فضل الوضوء والصلاۃ عقبہ ، رقم الحدیث ۱۳۔ (۲۳۲)، ۱؍۲۰۸۔