کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 63
وہ شخص کتنے عظیم بخت والا ہے،جسے اپنے ربّ کریم کو راضی کرنے والے عمل کی توفیق میسّر ہو۔اے ہمارے رب کریم! ہمیں اور ہماری اولادوں کو ایسے بلند نصیب لوگوں میں ہمیشہ شامل فرماتے رہنا۔إِنَّکَ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔ ۔۱۰۔ امام کے ساتھ[آمین] کہنے کے فضائل با جماعت نماز میں[آمین] کہنے کے فضائل میں سے دو درجِ ذیل ہیں: ا:فرشتوں کے ساتھ موافقت پر سابقہ گناہ معاف: امام بخاری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،(کہ)بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إِذَا قَالَ الْإِمَامُ {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} فَقُوْلُوْا:’’آمِیْنَ‘‘،فَإِنَّہُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُہُ قَوْلَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدََّمَ مِنْ ذَنْبِہِ۔‘‘ [1] ’’جب امام {غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} کہے،تو تم[آمین] کہو،کیونکہ جس کا یہ کہنا فرشتوں کے(آمین)کہنے سے موافقت کر گیا،اس کے سابقہ گناہ معاف کیے گئے۔‘‘ امام ابن حبان کی روایت میں ہے: ’’إِذَا قَالَ الْإِمَامُ:{غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَلَا الضَّآلِّیْنَ} فَقُوْلُوْا:’’آمِیْنَ‘‘،فَإِنَّ الْمَلَائِکَۃَ تَقُوْلُ:’’ آمِِیْنَ‘‘،وَالْإِمَامُ یَقُوْلُ:’’آمِیْنَ‘‘،فَمَنْ وَافَقَ تَأْمِیْنُہُ تَأْمِیْنَ الْمَلَائِکَۃِ غُفِرَ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ [1] صحیح البخاري ، کتاب الأذان، باب جہر المأموم بالتأمین، رقم الحدیث ۷۸۲، ۲؍۲۶۶۔