کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 61
[صف کی دائیں جانب کی فضیلت کے متعلق باب] امام ابن حبان کااس پر تحریر کردہ عنوان حسبِ ذیل ہے: [ذکْرُ مَغْفِرَۃِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا وَاسْتِغْفَارِ الْمَلَائِکَۃِ لِلْمُصَلِّيْ عَلٰی مَیَامِنِ الصُّفُوْفِ۔][1] [صفوں کی دائیں اطراف میں نماز اد اکرنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور فرشتوں کے استغفار کا ذکر]۔ ۲:حضراتِ صحابہ نماز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب کھڑے ہونے کو پسند فرماتے تھے۔امام ابوداؤد نے حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا: ’’کُنَّا إِذَا صَلَّیْنَا خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم أَحْبَبْنَا أَنْ نَکُوْنَ عَنْ یَمِیْنِہِ،فَیُقْبِلُْ عَلَیْنَا بِوَجْہِہِ۔صلي اللّٰه عليه وسلم۔۔‘‘ [2] ’’جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کرتے،تو ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں جانب کھڑا ہونا پسند کرتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چہرہ(مبارک)کے ساتھ ہماری طرف متوجّہ ہوتے۔‘‘ ۳:امام نسائی نے اس حدیث کو حضرت براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ہی روایت کیا ہے،البتہ اس میں ہے: ’’أَحْبَبْتُ أَںْ أَکُوْنَ عَنْ یَمِیْنِہِ۔‘‘ [3] [1] الإحسان في تقریب صحیح ابن حبان ۵؍۵۳۳۔ [2] سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ ، باب الإمام ینحرف بعد التسلیم، رقم الحدیث ۶۱۱، ۲؍۲۲۷۔ شیخ البانی نے اسے [صحیح] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱؍۱۲۲)۔ [3] سنن النسائي ، کتاب الإمامۃ ، ۲؍۹۴۔حافظ ابن حجر نے اس کی [ سند کو صحیح] اور شیخ البانی نے اسے [صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲؍۲۱۳؛ و صحیح سنن النسائي ۱؍۱۷۷)۔