کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 60
کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ان گنت درود و سلام۔ اگر یہ بے مثل سعادت نماز با جماعت میں صرف پہلی اور دو سری صفوں میں کھڑے ہونے پر ہے،تو پوری نماز با جماعت ادا کرنے کا اجر و ثواب کس قدر ہو گا! اے اللہ کریم! اپنی ملاقات کے لیے روانگی کے دن تک اس عظیم سعادت سے بہرہ ور فرماتے رہنا۔إِنَّکَ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔ ۔۸۔ صفوں کی دائیں جانب کی فضیلت حضراتِ ائمہ ابوداؤد،ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا:’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی مَیَامِنِ الصُّفُوْفِ۔‘‘ [1] ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ اور ان کے فرشتے صفوں کی دائیں اطراف پر درود بھیجتے ہیں۔‘‘ حدیث کے حوالے سے چار باتیں: ا:امام ابن ماجہ نے اس پر درج ذیل عنوان لکھا ہے: [بَابُ فَضْلِ مَیْمَنَۃِ الصَّفِّ] [2] [1] سنن أبي داود، تفریع أبواب الصفوف، باب من یستحب أن یلي الإمام في الصف و کراہیۃ التأخر، رقم الحدیث ۶۷۲، ۲؍۲۶۳ ؛ و سنن ابن ماجہ ، أبواب إقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیہا، رقم الحدیث ۹۹۱، ۱؍۱۸۰۔۱۸۱؛ والإحسان في تقریب صحیح ابن حبّان، کتاب الصلاۃ ، باب فرض متابعۃ الإمام ، رقم الحدیث ۲۱۶، ۵؍۵۳۳۔۵۳۴۔ حضراتِ محدثین منذری، ابن حجر اور ارناؤوط نے اس کی [ سند کو حسن] کہا ہے۔ (ملاحظہ ہو: الترغیب والترہیب ۱؍۳۲۰؛ و فتح الباري ۲؍۲۱۳؛ و ہامش الإحسان ۵؍۵۳۴)۔ [2] سنن ابن ماجہ ۱؍۱۸۰۔