کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 56
فرشتے پہلی صفوں پر درود بھیجتے ہیں۔‘‘ تینوں احادیث کے حوالے سے سات باتیں: ا:حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت کردہ حدیث میں ہے:(کَانَ یَقُوْلُ):[یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے] کسی بات کے کثرت سے کہنے کے لیے یہ اسلوب استعمال کیا جاتا ہے۔بلاشبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کسی بات کے بارے میں صرف ایک دفعہ فرمانا،اس کی اہمیت اور قطعیت واضح کرنے کے لیے بہت کافی ہے،تو پھر جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو کثرت سے فرمائیں،تو اس کی حیثیت اور پختگی کس قدر زیادہ ہو گی۔ ب:مذکورہ بالا سب روایات کے آغاز میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے(إِنَّ)’’یقینا‘‘ ارشاد فرمایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صیغہ تاکید کے بغیر فرمائی ہوئی ہر بات شک و شبہ سے ماوراء ہے،تو پھر(إِنّ)کے ساتھ فرمائے ہوئے ارشاداتِ عالیہ کس قدر حتمی اور یقینی ہوں گے؟ ج:اللہ تعالیٰ کا درُود بھیجنا: اس کے بیان کردہ معانی میں سے پانچ درجِ ذیل ہیں: ا: فرشتوں کے سامنے ان کی تعریف کرنا۔[1] ۲: ان لوگوں کا تزکیہ کرنا۔[2] ۳: ان پر اپنی رحمت نازل فرمانا۔[3] [1] ملاحظہ ہو: صحیح البخاري ، کتاب التفسیر ، باب (إِنَّ اللّٰہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ… الآیۃ ، ۸؍۵۳۲۔ [2] ملاحظہ ہو: المفردات في غریب القران ، مادۃ ’’ صلا ‘‘ ، ص ۲۸۵۔ [3] ملاحظہ ہو: غریب الحدیث للإمام الہروي ۱؍۸۰؛ نیز ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۲؍۱۶۷۔ حدیث کی شرح میں علامہ عبید اللہ مبارکپوری رقم طراز ہیں: اللہ تعالیٰ پہلی صف والوں پر رحم فرماتے ہیں۔ (ملاحظہ ہو: مرعاۃ المفاتیح ۴؍۱۹؛ نیز ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۳؍۱۷۸)۔