کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 53
ا:صفِ اوّل کا فرشتوں کی صف جیسا ہونا۔ ب:اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کا پہلی صفوں پر درود۔ ج:پہلی اور دوسری صف پر نبی ٔرحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا درُود۔ ۔ا۔ صفِ اوّل کا فرشتوں کی صف جیسا ہونا امام ابوداؤد نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے بیان کیا:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وَإِنَّ الصَّفَّ الْأَوَّلَ عَلٰی مِثْلِ صَفِّ الْمَلَائِکَۃِ،وَلَوْ عَلِمْتُمْ مَا فَضِیْلَتُہُ لَابْتَدَرْتُمُوْہُ۔‘‘[1] ’’ اور بلاشبہ صفِ اوّل فرشتوں کی صف جیسی ہے۔اگر تمہیںاس کی فضیلت معلوم ہوتی،تو تم(اسے پانے کی خاطر)ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کرتے۔‘‘ علامہ عظیم آبادی حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں: ’’[اور بے شک پہلی صف] اللہ تعالیٰ سے قرب اور شیطانِ مردود سے دُوری میں فرشتوں کی صف جیسی ہے۔‘‘ [2] شیخ احمد البنا نے قلم بند کیاہے: ’’(فرشتوں کی صف جیسی)یعنی قُربِ الٰہی،رحمت کے نزول،اس کے مکمل ہونے اور اعتدال کے اعتبار سے(وہ فرشتوں کی صف کی مانند [1] سنن أبي داود، کتاب الصلاۃ، باب في فضل صلاۃ الجماعۃ، جزء من رقم الحدیث ۵۵۰، ۲/۱۸۲۔ [2] ملاحظہ ہو: عون المعبود ۲؍۱۸۲؛ نیز ملاحظہ ہو: شرح الطیبي ۴؍۱۱۳۲۔