کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 50
الْمَلَائِکَۃُ:’’اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَہُ،اَللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔‘‘[1] ’’تم میں سے جب تک کوئی ایک با وضو نماز کے انتظار میں رہے،وہ نماز میں ہے۔فرشتے اس کے لیے دُعا کرتے ہیں:’’اے اللہ! اسے معاف فرما دیجیے! اے اللہ! اس پر رحم فرمایئے۔‘‘ اس حدیث کے حوالے سے دو باتیں: ا:(فِيْ صَلَاۃٍ)(وہ نماز میں ہے):یعنی اسے نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے،اگرچہ اس پر نماز کی پابندیاں نہیں ہوتی۔[2] ب:فرشتوں کی دعا پانے کے اعزاز کی حیثیت سمجھنے کی خاطر حسبِ ذیل چار باتیں ملاحظہ فرمایئے: ۱:فرشتے بولنے میں اللہ تعالیٰ پر سبقت نہیں کرتے۔ ۲:وہی عمل کرتے ہیں،جس کے کرنے کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے۔ ۳:صرف انہی لوگوں کی سفارش کرتے ہیں،جن سے اللہ تعالیٰ خوش ہوں۔ ان تینوں باتوں کے بارے میں ارشادِ ربانی ہے: {لَا یَسْبِقُوْنَہٗ بِالْقَوْلِ وَ ہُمْ بِأَمْرِہٖ یَعْمَلُوْنَ۔یَعْلَمُ مَا بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ وَ لَا یَشْفَعُوْنَ إِلَّا لِمَنِ ارْتَضٰی} [3] ’’ وہ(یعنی فرشتے)کسی بات میں ان(یعنی اللہ تعالیٰ)پر سبقت نہیں کرتے اور انہی کے حکم کے مطابق عمل کرتے ہیں،وہ(یعنی اللہ تعالیٰ)جانتے ہیں،جو ان کے سامنے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش نہیں [1] صحیح مسلم، کتاب المساجد و مواضع الصلاۃ، باب فضل صلاۃ الجماعۃ و انتظار الصلاۃ، رقم الحدیث ۲۷۵۔ (۶۴۹)، ۱؍۴۶۰۔ [2] ملاحظہ ہو: فتح الباري ۲؍۱۴۲؛ و عون المعبود ۲؍۱۸۶۔۱۸۷۔ [3] سورۃ الأنبیآء؍ الآیتان ۲۷۔۲۸۔