کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 46
حضراتِ صحابہ بھی اس عظیم الشان فضیلت کا ذکر کیا کرتے تھے۔ذیل میں اس حوالے سے تین روایات ملاحظہ فرمایئے: ا:امام ابن مبارک نے عمرو بن میمون سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا: ’’کَانَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم یَقُوْلُوْنَ:’’إِنَّ بُیُوْتَ اللّٰہِ فِيْ الْأَرْضِ الْمَسَاجِدُ،وَإِنَّ حَقًّا عَلَی اللّٰہِ أَنْ یُکْرِمَ مَنْ زَارَہُ فِیْہَا۔‘‘ [1] ’’ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ فرمایا کرتے تھے: ’’بے شک زمین میں اللہ تعالیٰ کے گھر مسجدیں ہیں اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ پر لازم ہے،کہ ان(یعنی مساجد)میں ان(یعنی اللہ تعالیٰ)کی زیارت کے لیے حاضر ہونے والے کی عزت افزائی فرمائیں۔‘‘ ب:امام ابن ابی شیبہ نے عمرو بن میمون کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے فرمایا: ’’اَلْمَسَاجِدُ بُیُوْتُ اللّٰہِ فِيْ الْأَرْضِ،وَحَقٌّ عَلَی الْمَزُوْرِ أَنْ یُکْرِمَ زَائِرَہُ۔‘‘ [2] ’’مسجدیں زمین میں اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں اور میزبان پر اپنے مہمان کی عزت کرنا فرض ہے۔‘‘ ج:امام ابن ابی شیبہ نے ہی حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے،(کہ)انہوں نے فرمایا: [1] کتاب الزہد (زیادات الزہد لنعیم بن حماد) ، رقم الروایۃ ۶، ص ۲۔ [2] المصنف ، کتاب الزہد ، ما جاء في لزوم المساجد ، رقم الروایۃ ۱۶۴۶۳، ۱۳؍۳۱۸۔