کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 41
کامل نور(پانے)کی بشارت ہے۔‘‘ حدیث کے حوالے سے پانچ باتیں: لِیَبْشَرْ):یہ(لِیَفْرَحْ)کاہم وزن اور ہم معنٰی ہے۔مراد یہ ہے،کہ وہ خوش ہو جائیں۔یا یہ(الإبشار)سے ہے اور مقصود یہ ہے،کہ وہ خوش خبری سن لیں یا ان کے لیے بشارت ہے۔[1] اَلْمَشَّائِیْنَ):مَشَّائٌکی جمع اور صیغہ مبالغہ ہے۔مراد یہ ہے،کہ وہ اتنی کثرت اور تکرار سے مسجدوں کی طرف آتے ہیں،کہ یہ ان کی عادت بن چکی ہے۔کبھی کبھار آنے والے لوگ ان میں شامل نہیں۔ فِيْ الظُّلَمِ)[اندھیروں میں]:اس سے مقصود عشاء و فجر دونوں نمازوں کے لیے جانا ہے،کیونکہ یہ دونوں نمازیں تاریکیوں میں ادا کی جاتی ہیں۔[2] بِالنُّوْرِ التَّامِّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)[روزِ قیامت کامل نور]:یعنی ان کے لیے پل صراط عبور کرتے ہوئے ہر جانب سے نور ہو گا،جس کی روشنی میں وہ اسے عبور کریں گے۔ علامہ طیبی لکھتے ہیں،کہ نور کے کامل ہونے اور روزِ قیامت کے ذکر میں اس دن اہلِ ایمان کے منوّر چہروں کی طرف اشارہ ہے،جس کا ذکر ارشادِ ربانی میں ہے: {نُوْرُہُمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْدِیْہِمْ وَبِأَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ أَتْمِمْ [1] ملاحظہ ہو: إنجاز الحاجۃ ۳؍۴۸۹۔۴۹۰۔ [2] ملاحظہ ہو: ہامش صحیح الترغیب والترہیب ۱؍۲۴۶۔