کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 39
اجر و ثواب لکھا جاتا ہے۔علامہ عبید اللہ مبارکپوری حدیث کی شرح میں رقم طراز ہیں: ’’وَفِیْہِ أَنَّہُ یُکْتَبُ لِقَاصِدِ الصَّلَاۃِ أَجْرُ الْمُصَلِّيْ مِنْ حِیْنَ یَخْرُجُ مِنْ بَیْتِہِ إِلٰی أَنْ یَّعُوْدَ إِلَیْہِ۔‘‘[1] ’’اس(حدیث)میں ہے،کہ ارادۂ نماز سے روانہ ہونے والے کے لیے گھر سے نکلنے سے لے کر،اس کے(گھر)واپس آنے تک،نماز ادا کرنے والے کا ثواب تحریر کیا جاتا ہے۔‘‘ ی:مسجد کی طرف آنے جانے کا[جہاد فی سبیل اللہ] سے ہونا: امام احمد نے حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے فرمایا: ’’اَلْغُدُوُّ وَالرَّوَاحُ إِلٰی ہٰذِہِ الْمَسَاجِدِ مِنَ الْجِہَادِ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ۔‘‘[2] ’’ان مساجد کی طرف دن کے پہلے اور پچھلے پہر جانا[جہاد فی سبیل اللہ] سے ہے۔‘‘ اس روایت کے حوالے سے دو باتیں: ۱: [جہاد فی سبیلِ اللہ] سے ہونے سے مراد یہ ہے،کہ اللہ تعالیٰ مسجد کی طرف آنے جانے پر[جہاد فی سبیلِ اللہ] کا ثواب دیتے ہیں۔ اس بات کی تائید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے،جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین اعمال:[نہ چاہنے کے باوجود کامل وضو بنانا،مساجد کی طرف بہت قدم(چل کر جانا)اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا] کے متعلق فرمایا: ’’فَذٰلِکُمُ الرِّبَاطُ۔‘‘ ’’ یہ تمہارا[رباط] ہے۔‘‘ [1] مرعاۃ المفاتیح ۳؍۳۶۵؛ نیز ملاحظہ ہو: مرقاۃ المفاتیح ۳؍۷۸۔۔ [2] المسند، جزء من رقم الروایۃ ۲۰۲۳۰۴، ۳۶؍۶۴۰۔ شیخ ارناؤوط نے اس کی [ سند کو حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: ہامش المسند ۳۶؍۶۴۰)۔