کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 37
ایسی قابلِ اعتماد اور طاقت ور ضمانت،حفاظت اور سپرداری کسی اور کی نہیں،کہ اس کے میسّر آنے پر بندہ دنیا میں رزق دیا جائے،مصائب و مشکلات سے اس کے لیے کفایت کی جائے اور فوت ہونے پر جنت میں داخل کیا جائے۔ربّ ِکعبہ کی قسم! یہ تو عظیم کامیابی ہے! اے ربّ ِکریم! ہمیں اور ہماری اولادوں کو اس سے محروم نہ رہنے دیجیے۔إِنَّکَ جَوَّادٌ کَرِیْمٌ۔ ط:نماز کے لیے جانے والے کا گھر پلٹنے تک حالتِ نماز میں ہونا: اس سلسلے میں ذیل میں دو حدیثیں ملاحظہ فرمائیے: ۱: امام ابوداؤدنے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے،کہ انہوں نے بیان کیا:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُکُمْ،فَأَحْسَنَ وَضُوْئَ ہُ،ثُمَّ خَرَجَ عَامِدًا إِلَی الْمَسْجِدِ،فَلَا یُشْبِکَنَّ یَدَیْہِ،فَإِنَّہُ فِيْ صَلَاۃٍ۔‘‘[1] ’’تم میں سے جب کوئی اچھی طرح وضو کر کے مسجد کے ارادے سے نکلے،تو وہ اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل نہ کرے،کیونکہ بلاشبہ وہ(حالتِ)نماز میں ہے۔‘‘ امام ابن حبان نے اس حدیث کو اپنی کتاب[الصحیح] میں حسبِ ذیل عنوان کے تحت روایت کیا ہے: [ذِکْرُ کَتَبَۃِ اللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا الصَّلَاۃَ لِلْخَارِجِ إِلَی الْمَسْجِدِ [1] سنن أبي داود ، کتاب الصلاۃ ، باب ما جاء في الہدي في المشي إلی الصلاۃ، رقم الحدیث ۵۵۸، ۲؍۱۸۸۔۱۸۹ ۔شیخ البانی نے اسے [ صحیح] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۱؍۱۱۲)۔