کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 273
۷:باجماعت نماز رہ جانے کے باوجود مسجد جانا: باجماعت نماز چھوٹ جانے یا چھوڑنے کی صورت میں گھر،دفتر،دکان،فیکٹری وغیرہ میں نماز ادا نہ کرے،بلکہ مسجد جا کر نماز ادا کرے۔باجماعت نماز کا رہ جانا عظیم خسارہ اور چھوڑنا سنگین غلطی ہے۔مسجد کی بجائے گھر وغیرہ میں بلاعذر نماز ادا کرنا ایک دوسری غلطی ہے۔ایک خسارے کا ہونا یا ایک غلطی کا ارتکاب کرنا دوسری غلطی کے لیے سندِ جواز نہیں بنتا۔ علاوہ ازیں مسجد میں جانے پر شاید کوئی دوسرا ایسا شخص مل جائے،کہ اس کے ساتھ مل کر باجماعت نماز ادا کی جاسکے۔ ۸:باجماعت نماز کی اہمیت کے متعلق بات سنتے سناتے رہنا: باجماعت نماز کے فضائل،فرضیّت اور اللہ والوں کے اس کی خاطر اہتمام کے واقعات کثرت سے پڑھتا،سنتا اور دوسروں کو سناتا رہے،شاید کہ اس سے باجماعت نماز کے لیے اس کے شوق کی تجدید ہوتی رہے اور اسے تقویت ملتی رہے۔وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیْزٍ۔[1] ب:قابلِ احترام خواتین کے لیے: اس سلسلے میں تین باتیں ذیل میں ملاحظہ فرمالیجیے: ۱:خاتون کی گھر کی نماز کا باجماعت نماز سے اعلیٰ ہونا: خاتون کی گھر میں ادا کی جانے والی فرض نماز مسجد میں اس کی باجماعت پڑھی جانے والی نماز سے اعلیٰ ہے۔امام احمد نے حضرت اُمِّ حمید رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے،(کہ)وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: [1] ترجمہ: اور اللہ تعالیٰ کے لیے یہ مشکل نہیں۔