کتاب: نماز باجماعت کی اہمیت - صفحہ 272
کی صحبت اختیار کی جائے۔صحبت کے اثرات کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس قدر جامع اور پر مغز بات ارشاد فرمائی ہے: ’’اَلرَّجُلُ عَلٰی دِیْنِ خَلِیْلِہِ،فَلْیَنْظُرْ أَحَدُکُمْ مَنْ یُخَالِلُ‘‘۔[1] ’’آدمی اپنے دوست کے دین [2] پر ہوتا ہے،سو تم میں سے ایک کو دیکھنا چاہیے،کہ وہ کسے دوست بنا رہا ہے۔‘‘ ۶:غافل لوگوں کی صحبت کی صورت میں انہیں جماعت کی دعوت دیتے رہنا: اگر باجماعت نماز کی قدر وقیمت سے غافل لوگوں سے واسطہ ہو،تو صرف باجماعت نماز ادا کرنا ہدف نہ ہو،بلکہ اپنا نشانہ اُن لوگوں کو باجماعت نماز کے لیے مسجد لے جانا رکھے۔حضرت لقمان کی اپنے بیٹے کے لیے وصیّت ہمیشہ اپنے پیشِ نظر رکھے: {یٰبُنَیَّ أَقِمَ الصَّلٰوۃَ وَاْمُرْ بِالْمَعْروْفِ وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ أَصَابَکَ إِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ}۔[3] [اے میرے چھوٹے سے بیٹے! نماز قائم کرو اور نیکی کا حکم دو اور برائی سے منع کرو اور جو مصیبت تجھے پہنچے اس پر صبر کرو۔بے شک یہ ہمت کے کاموں سے ہے]۔ حضرت لقمان نے بیٹے کو[نماز قائم کرنے کا حکم] دینے پر اکتفا نہ کیا،بلکہ اس کے ساتھ نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کی تلقین فرمائی۔خیر اور نیکی کے کسی کام پر کاربند رہنے کے لیے ایک بہترین نسخہ یہ ہے،کہ اسی کام کا حکم دوسروں کو دیا جائے۔ [1] سنن أبي داود، کتاب الأدب، باب من یؤمَر أن یجالس، رقم الحدیث ۲۸۲۳ عن أبی ہریرۃ رضی اللّٰه عنہ ، ۱۳/ ۱۲۳۔ شیخ نے اسے [حسن] قرار دیا ہے۔ (ملاحظہ ہو: صحیح سنن أبي داود ۳/ ۹۱۷)۔ نیز دیکھئے: سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ ۲/ ۶۳۳۔ [2] یعنی اپنے دوست ایسی عادت، طریقے اور سیرت پر۔ (ملاحظہ ہو: عون المعبود ۱۳/ ۱۲۳)۔ [3] سورۃ لقمان/ الآیۃ ۱۷۔